.

پاکستان: کووِڈ-19 کے کیسوں میں کمی ،سیاحتی اور تفریحی شعبے دوبارہ کھولنے کااعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک بھر میں کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں مسلسل کمی کے پیش نظر 10 اگست سے ریستوران ،کیفے اور تفریحی مراکز دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے جبکہ تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے کھلیں گے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ، ترقی اور خصوصی اقدامات اسد عمر نے جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں حکومت کی کرونا وائرس کے تعلق سے عاید کردہ بعض پابندیوں کے خاتمے اور مختلف شعبوں کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس ضمن میں معیاری طریق ہائے کار کو آیندہ دو سے تین روز میں حتمی شکل دے دی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ تفریحی شعبے میں شامل عوامی پارکوں ، تھیٹروں ، سینما گھروں ، کاروباری مراکز ، نمائش مراکز اور بیوٹی پارلروں کو آیندہ سوموار سے کھولنے کی اجازت ہوگی۔

انھوں نے بتایا کہ چار دیواری اور کھلے میدانوں میں کھیلے جانے والے کھیلوں کی بھی اجازت دی جارہی ہے۔ایسے کھیلوں کے ٹورنا منٹ اورمیچوں کے انعقاد کی اجازت ہوگی جن میں افراد کا ایک دوسرے سے باہم گھلنا ملنا نہیں ہوتا ہے۔

قبل ازیں اسلام آباد میں قومی رابطہ کمیٹی( این سی سی) برائے کرونا وائرس کا اجلاس منعقد ہوا۔اس میں ملک میں معمول کے حالات کی بحالی کے لیے لائحہ عمل پر غور کیا گیا ہے۔اس اجلاس کی صدارت وزیراعظم عمران خان نے کی اور اس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے بھی شرکت کی۔

اسد عمر نے صحافیوں کو بتایا کہ اجلاس میں کرونا وائرس کی وَبا سے نمٹنے کے لیے قائم کردہ قومی کمان اور آپریشن سنٹر کی مجوزہ سفارشات پر غور کیا گیا ہے۔ یہ تمام صوبوں کی مشاورت سے تیار کی گئی ہیں۔انھوں نے بتایا کہ تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس سے پہلے 7 ستمبر کو کرونا وائرس کی صورت حال کا حتمی جائزہ لیا جائے گا۔اس سلسلے میں وفاقی وزیر تعلیم چاروں صوبائی وزرائے تعلیم سے مشاورت کریں گے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ سیاحت کے شعبے کو آٹھ اگست سے کھولا جارہا ہے اور ٹرانسپورٹ بالخصوص ریلویز اور فضائی کمپنیوں پر عاید کردہ پابندیوں کو ختم کیا جارہا ہے۔ تاہم ستمبر تک ٹرینوں اور طیاروں میں مسافروں کے ایک دوسرے سے فاصلے سے نشستوں پر بیٹھنے کے بارے میں عاید کردہ پابندیاں ستمبر تک برقرار رہیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ شادی ہال 15 ستمبر سے کھولے جاسکتے ہیں اور ہوٹلوں میں شادیوں کی تقریبات کا انعقاد کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے اپنی نیوزکانفرنس کے آخر میں کہا کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ البتہ حکومت کی حکمت عملی کے نتیجے میں صورت حال میں مثبت تبدیلی رونما ہوئی ہے۔انھوں نے شہریوں سے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اگر منفی رویّے کا اظہار کیا جاتا ہے تو پھر صورت حال دوبارہ تبدیل بھی ہوسکتی ہے۔