.

’’روشنیوں کا شہر‘‘ کراچی اندھیروں کے بعد اب سیلاب میں ڈوب گیا،19 افراد ہلاک

کراچی میں اگست میں سب سےزیادہ بارشوں کا 89 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، کئی علاقوں میں 10،10 گھنٹے بجلی بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں طوفانی بارشیں اوران کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔جمعرات کو سیلاب میں ڈوبنے، کرنٹ لگنے اور مکانات یا دیواریں گرنے کے مختلف واقعات میں مزید 19 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ گذشتہ تین روز میں روشنیوں کا شہر کہلانے والے کراچی میں تیس افراد سیلابی ریلوں کی نذر ہوچکے ہیں۔ پہلے شہر کے بیشتر علاقے طویل دورانیے کی لوڈ شیڈنگ کے نتیجے میں اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تھے اور اب سیلاب میں ڈوب چکے ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں اگست میں سب سےزیادہ بارشوں کا 89 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے افسر سردار سرفراز نے بتایا ہے کہ اب تک کراچی میں 484 ملی میٹر (19 انچ) بارش ہوچکی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’’1931ء سے اب تک ہمارے پاس موجود ڈیٹا کے مطابق پہلے کبھی کراچی میں اگست میں اتنی بارش نہیں ہوئی ہے۔‘‘

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں جمعرات کو صرف 12 گھنٹے میں 223۰5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے ۔یہ ایک دن میں شہر میں بارش کی سب سے زیادہ مقدار ہے۔اس سے پہلے 26 جولائی 1967ء کو 24 گھنٹے میں مسرور بیس میں 211۰3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔

محکمہ کے فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق پاک فضائیہ کے فیصل بیس پر جمعرات کی صبح سے شام تک سب سے زیادہ 223۰5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔اس کے بعد سرجانی میں 193۰1 ملی میٹر، کیماڑی میں 167۰7، ناظم آباد میں 159۰1 اور پی اے ایف مسرور بیس میں 148۰5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

شہر میں شدید بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بحرانی صورت حال کے پیش نظر صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ مرادعلی شاہ نے جمعہ کو کراچی میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ان کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شہر میں تمام سرکاری ، نیم سرکاری اور نجی ادارے بند رہیں گے اور صرف ضروری خدمات مہیا کرنے والے دفاتر کھلے رہیں گے۔

دریں اثناء کراچی میں پانی میں ڈوبے ہوئے علاقوں میں شہری انتظامیہ، پاک فوج ، بحریہ ، رینجرز اور دوسرے اداروں کی ٹیموں نے امدادی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور وہ زیرآب علاقوں سے شہریوں کو کشتیوں کے ذریعے نکال کر محفوظ مقامات کی جانب منتقل کررہے ہیں۔

حکام نے بتایا ہے کہ گذشتہ دو روز میں زیادہ تر لوگ بارشی پانی یا لیاری دریا میں ڈوب کر جاں بحق ہوئے ہیں۔ان میں ایک 42 سالہ خاتون نصرت بھی شامل ہیں۔ وہ معذور تھیں اور پہیّا کرسی پر تھیں۔شدید بارش کی وجہ سے ان کے مکان میں پانی بھر گیا اور وہ ڈوب کر جان کی بازی ہار بیٹھیں۔ ایک 18 سالہ نوجوان بحریہ ٹاؤن کی ندی میں ڈوب کر جاں بحق ہوا ہے۔

کراچی کے بعض علاقوں میں بوسیدہ عمارتیں یا دیواریں گرنے سے بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔گلستان جوہر میں واقع صائمہ مال میں ایک دیوار گرنے سے دو خواتین اور چار بچے جاں بحق ہوگئے ہیں۔

کراچی میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے پاکستان آرمی نے ایک فلڈ ایمرجنسی کنٹرول مرکز قائم کردیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ایک بیان کے مطابق گلبرگ ، لیاقت آباد اور نیو کراچی کے ضلعی مرکز میں ایک میڈیکل کیمپ بھی لگا دیا گیا ہے تاکہ متاثرہ افراد کو بروقت طبی امداد مہیا کی جاسکے۔بیان کے مطابق پاک فوج کی ٹیموں نے کراچی میں 36 مقامات سے پانی نکال دیا ہے اور سیلاب سے متاثرہ قریباً دس ہزار افراد میں پکا ہوا کھانا تقسیم کیا ہے۔

شدید بارشوں کے بعد کراچی کے بہت سے علاقوں میں بجلی منقطع کردی گئی ہے اور بعض علاقوں میں تو ،10،10 گھنٹے سے بھی زیادہ وقت سے بجلی بند ہے اور وہاں کے مکین اس کے بغیر گزارہ کررہے ہیں۔کراچی الیکٹرک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہر جگہ پانی ہے اور لوگوں کی جانوں کے تحفظ کے پیش نظر حفظ ماتقدم کے طور پر بجلی بند کی گئی ہے۔اب برساتی پانی کی شاہراہوں اور گلیوں میں سطح نیچے ہونے کے بعد بجلی بحال کی جائے گی۔اس لیے لوگوں کو اس ہنگامی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔