.

بلوچستان: تربت میں صحافیہ شاہینہ شاہین کا قتل، مفرور خاوند کے خلاف مقدمہ درج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ میں پاکستان ٹیلی ویژن چینل ( پی ٹی وی بولان) کے صبح کے ایک پروگرام کی خاتون میزبان اور بلوچی زبان میں شائع ہونے والے میگزین دز گہار کی ایڈیٹر شاہینہ شاہین کو ہفتے کے روز قتل کردیا گیا ہے۔پولیس نے مقتولہ کےمفرور شوہر کے خلاف ان کے قتل کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔

پولیس کی رپورٹ کے مطابق ضلع کیچ کی تحصیل تربت میں واقع علاقے پی ٹی سی ایل کالونی کے ایک سرکاری مکان میں ملزم نواب زادہ محراب خان گچکی نے شاہینہ شاہین کو اپنے نو ایم ایم پستول سے فائرنگ کرکے قتل کر کردیا تھا۔

پولیس نے ابتدائی اطلاع میں بتایا کہ ملزم نے خود ہی شدید زخمی شاہینہ کو اپنی کار میں ڈال کر ٹیچنگ اسپتال تربت منتقل کیا تھا جہاں وہ اپنے زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گئیں۔

بعد میں پولیس نے ابتدائی اطلاعی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ملزم محراب گچکی نے اپنے چچا اکبر گچکی کے سرکاری مکان میں شاہینہ بنت محمد رفیق کو دو گولیاں مار کر قتل کردیا تھا اور پھر لاش اسپتال پہنچا کر فرار ہوگیا۔پولیس نے اس کے خلاف مقتولہ کے ماموں امجد رحیم کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور علاقے کی مکمل ناکا بندی کرکے اس کی تلاش شروع کردی ہے۔

مقتولہ کے ماموں امجد رحیم ہی نے اسپتال سے بھانجی کی لاش وصول کی ہے۔ شاہینہ شاہین صوبہ بلوچستان میں بالخصوص خواتین کے حقوق کی ایک علمبردار کی حیثیت سے پہچان رکھتی تھیں اور وہ اپنی تحریر وتقریر میں صوبے میں خواتین کی محرومیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز اٹھاتی رہتی تھیں۔

سوشل میڈیا پر ملک کے سرکردہ صحافیوں، سماجی کارکنان اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے ان کے قتل کی مذمت ہے اور حکومت سے ان کے قاتلوں کی گرفتاری اور انھیں قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے لیکن زیادہ تر نے بے نامی قاتلوں کو واقعے میں ملوث قراردیا ہے اور ان کے خاوند کا نام نہیں لیا ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال یکم مئی کو ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں گذشتہ ایک سال میں میڈیا اور صحافیوں کے خلاف حملوں اور دیگر خلاف ورزیوں کے 91 مختلف واقعات رونما ہوئے تھے۔ ان میں سات صحافیوں کے قتل کے واقعات بھی شامل تھے۔