.

لاہورمیں موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کے الزام میں 15 مشتبہ افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں پولیس نے ایک موٹروے پر ایک خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں 15 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

متاثرہ خاتون سے اس کے بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا اندوہ ناک واقعہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب لاہور،سیال کوٹ موٹر وے پر گجر پورہ کے علاقے میں پیش آیا تھا۔خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالا جارہی تھیں۔گجر پورہ میں موٹروے ٹول پلازا سے تھوڑے فاصلے پر ان کی کار اچانک خراب ہوگئی تھی یا اس میں پیٹرول ختم ہوگیا تھا۔

اس دوران میں ان کی بند کار کو دیکھ کر دو مسلح افراد وہاں آن دھمکے تھے۔انھوں نے کار کے شیشے توڑ کر خاتون کو باہر نکلا اور موٹروے کے نزدیک ہی ویران جگہ میں بچوں کے سامنے اس کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔پھر ان کے پاس موجود رقم اور زیورات لوٹ کر فرار ہوگئے۔

اس اندوہ ناک واقعے پر عام شہری، سیاسی اور سماجی کارکنان سوشل میڈیا پر اپنے سخت غم وغصے کا اظہار کررہے ہیں اور انھوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص پولیس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے بھی اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مجرموں کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’خواتین کا تحفظ حکومت کی اوّلین ترجیح اور ذمے داری ہے۔اس طرح کی سفاکیت اور اخلاق باختگی کی کسی بھی مہذب معاشرے میں اجازت نہیں دی جاسکتی۔اس طرح کے واقعات ہماری سماجی اقدار کے منافی ہیں اور معاشرے پر بدنما داغ ہیں۔‘‘

پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کی کار ایندھن ختم ہوجانے کی وجہ سے بند ہوگئی تھی۔اس کے بعد انھوں نے کار کے دروازے اندر سے بند کردیے تھے لیکن حملہ آور ڈاکو ایک دروازے کا شیشے توڑ کر خاتون کو زبردستی نکال کر باہر لے گئے تھے۔خاتون نے کار بند ہونے کے بعد موٹروے پولیس کو کال کی تھی لیکن انھوں نے یہ کہہ کر مدد کو آنے سے انکار کردیا کہ لاہور ، سیال کوٹ موٹروے ان کی عمل داری میں نہیں آتی ہے۔

لاہور پولیس کے حال ہی میں تعینات ہونے والے سربراہ عمر شیخ نے اپنے محکمہ کی نااہلی اور فرائض سے غفلت کو چھپانے کے لیے الٹا متاثرہ خاتون ہی کو مورد الزام ٹھہرادیا ہے۔انھوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’خاتون کو دو بچوں کے ساتھ رات گئے گھر سے نہیں نکلنا چاہیے تھے اور پھر انھوں نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ آیا ان کی کار میں سفر کے لیے کافی ایندھن بھی ہے یا نہیں۔‘‘

ان کے اس بیان کی ملک کے سیاسی اور صحافتی حلقوں نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور ٹویٹر پر انھیں عہدے سے ہٹانے کے لیے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کررہا تھا۔تاہم انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ مشتبہ ملزموں کو 48 گھنٹے میں گرفتار کر لیں گے۔

صوبہ پنجاب کی حکومت کی ترجمان مسرت چیمہ کا کہنا ہے کہ مجرموں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مار کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ پنجاب پولیس اور متعلقہ ادارے موٹروے پر پیش آنے والے اس افسوس ناک واقعے میں ملوّث افراد کو پکڑنے کے لیے مل جل کر کام کررہے ہیں اور وہ قریبی رابطے میں ہیں۔انھوں نے 12 مشتبہ افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے۔تاہم پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بظاہر ان میں کوئی بھی حقیقی مجرم نظرنہیں لگ رہا ہے۔