.

پیرس چاقو حملے کے مشتبہ ملزم پاکستانی اور الجزائری نکلے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی حکام نے ’’چارلی ایبڈو‘‘ اخبار کے پرانے اشاعتی مرکز کے قریب چاقو کے وار کر کے دو افراد کو زخمی کرنے والے مشتبہ ملزم کی تصویر جاری کی ہے۔

یورپ ون ریڈیو نے پولیس حکام کا بیان نشر کیا ہے جس میں انھوں نے دعویٰ کیا حراست میں لیے جانے والے مشتبہ شخص نے خنجر سے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ حملہ آور کی عمر 18 برس ہے اور سکیورٹی حکام کے پاس اس کا ریکارڈ موجود ہے۔

پولیس حکام کا مزید کہنا تھا کہ مشتبہ ملزم کی جائے پیدائش پاکستان ہے۔ پولیس نے حملے میں ملوث ایک دوسرے مشتبہ ملزم کو بھی گرفتار کر لیا ہے، اس کا تعلق الجزائر سے بتایا جاتا ہے۔

پپرس میں’’چارلی ایبڈو‘‘ اخبار پر حملے کے سات برس بعد جمعہ کے روز اسی اخبار کے پرانے دفتر کے قریب ہونے والے خنجر حملے میں دو افراد زخمی ہوئے۔ ہفتہ وار چارلی ایبڈو اپنے طنزیہ انداز صحافت کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔

یہ واردات اس وقت ہوئی جب پیرس میں چارلی ایبڈو پر حملے میں ملوث افراد کے خلاف کیس کی سماعت جاری تھی۔ چارلی ایبڈو میگریزن کا موجودہ پتا سکیورٹی وجوہات کی بنا پر خفیہ رکھا گیا ہے۔

2015 میں چارلی ایبڈو پر حملہ ہوا تھا، اس حملے میں بارہ افراد ہلاک ہوئے تھے جس میں کارٹونسٹ بھی شامل تھے۔ القاعدہ نے اس وقت چارلی ایبڈو پر دوبارہ حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اس حملے میں ملوث افراد کے خلاف کیس سماعت جمعے کو دوبارہ اس وقت شروع ہوئی جب ایک ملزم کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ نیگٹو آیا۔ سماعت کا آغاز دو ستمبر کو ہوا تھا تاہم ایک مجرم کی علالت کے باعث مقدمہ ملتوی ہو گیا تھا۔