.

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار

عدالت عالیہ لاہور سے ضمانت خارج ہونے کے بعد نیب نے حراست میں لے لیا، ن لیگ ، پی پی پی کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کو قومی احتساب بیورو( نیب) نے منی لانڈرنگ کیس میں عدالت عالیہ لاہور سے درخواست ضمانت خارج ہونے کے بعد گرفتار کر لیا ہے۔

نیب حکام نے سوموار کے روز میاں شہباز شریف کو عدالت عالیہ ہی سے حراست میں لیا ہے۔اس موقع پر پی ایم ایل این کے کارکنان اور حامیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔عدالت نے گذشتہ ہفتے ان کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کردی تھی اور ان کے وکیل کو آیندہ تاریخ پر اپنے دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

میاں شہباز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل کے خلاف جعلی کیس بنائے گئے ہیں اور نیب نے ان کے خلاف دو اور ریفرینس بھی دائر کررکھے ہیں مگر ان کے خلاف کوئی فرد جرم عاید نہیں کی گئی ہے۔

نیب کے وکیل فیصل بخاری نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ میاں شہباز شریف کے اثاثوں میں 2008ء سے 2018ء تک کئی گنا اضافہ ہوا تھا۔وہ یہ وضاحت نہیں کرسکے تھے کہ انھوں نے بیرون ملک چار اپارٹمنٹس کیسے خرید کیے تھے۔

تاہم قائد حزب اختلاف کے ایک اور وکیل امجد پرویز نے نیب کے وکیل کے دلائل کو مسترد کردیا اور کہا کہ احتساب بیورو نے منی لانڈرنگ کے ریفرینس میں ان کے مؤکل کے خلاف ایک بھی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا ہے جبکہ ان کے اثاثوں کی تمام تفصیل فیڈرل بورڈ آف ریونیو ،سکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان اور دوسرے اداروں میں موجود ہے۔

اس ریفرینس میں میاں شہباز شریف کے ساتھ ان کی اہلیہ نصرت شہباز، ان کے دونوں بیٹوں حمزہ اور سلمان اور اور بیٹیوں رابعہ اور جویریہ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ان پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ انھوں نے آمدن کے معلوم ذرائع سے ماورا اثاثے بنا رکھے ہیں۔

ردِّعمل

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی بیٹی اور پی ایم ایل این کی صدر مریم نواز نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ غلطی نہ کیجیے، شہباز شریف کو صرف اس وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے کہ انھوں نے ان لوگوں کے ہاتھوں میں کھیلنے سے انکار کردیا تھا جو انھیں ان کے بھائی کے خلاف استعمال کرنا چاہتے تھے مگر انھوں نے اپنے بھائی کے خلاف کھڑا ہونے کے بجائے جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانے کو ترجیح دی ہے۔‘‘

انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ اگر اس ملک میں احتساب اور انصاف ہوتا تو یہ شہباز شریف نہیں بلکہ عاصم سلیم باجوہ اور ان کا خاندان گرفتار ہوتا۔‘‘

ن لیگ کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگ زیب نے ان کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور حکومت پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔انھوں نے میاں شہباز شریف کی گرفتاری کو ’’نیب نیازی گٹھ جوڑ‘‘ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

حزب اختلاف کی ایک اور جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی ایک بیان میں میاں شہباز شریف کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’وزیراعظم عمران خان حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل پاکستان جمہوری تحریک سے خوف زدہ ہیں اور وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔‘‘

دریں اثناء وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز نے ایک نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ (نیب کے) ریفرینس کو سیاسی مسئلہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری ان کی کرپشن کی وجہ سے عمل میں آئی ہے اور یہ فیصلہ ایک عدالت نے کیا ہے۔