.

پاکستان میں لکڑی کے قلم تیار کرنے کا ہنر زندہ رکھنے والی شخصیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے کبیر حسین شاہ کو ملک میں لکڑی کے قلم کو تحفظ فراہم کرنے والی شخصیت قرار دیا جاتا ہے۔ وہ ان چند لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے لکڑی سے قلم تیار کرنے کا ہنر زندہ رکھا۔ کبیر آٹھویں جماعت سے ہی اس فن کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اس وقت سے لے کر اب تک ان کا خطاطی اور اس کی اشیاء کے ساتھ تعلق قائم ہے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ آگے بھی اس فن کی حفاظت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

تقریبا چار دہائیوں سے کبیر لکڑی کے قلم سے خطاطی کے فن سے وابستہ ہیں۔ کمپیوٹر پر انحصار کرنے کا دور آنے سے قبل کبیر نے صحافتی اداروں میں بطور خطاط کام کیا۔ اس وقت کبیر ایک مقامی کالج اور نجی اداروں میں خطاطی کی تعلیم دے رہے ہیں۔

کبیر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ "میں نے یہ فن اپنے والد سے حاصل کیا۔ بچپن سے ہی میں ان کو لکڑی کے قلم سے لکھتے ہوئے دیکھا کرتا تھا اور ان سے سیکھتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس فن کے حوالے سے میرا شوق اور شغف بڑھتا چلا گیا۔ اس وقت میں چالیس قسم کے قلم تیار کرتا ہوں جن میں بعض اقسام میں نے خود دریافت کی ہیں"۔

کبیر نے اب تک قلم تیار کرنے اور ان کو تراشنے کا پرانا اسلوب ہی برقرار رکھا ہوا ہے۔ وہ قلم کی تیاری کے لیے پاکستان کے علاوہ ایران اور ترکی سے منگوائی گئی لکڑیاں بھی استعمال کرتے ہیں۔

کبیر کہتے ہیں کہ "میں لکڑی یا بانس کو چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیتا ہوں۔ پھر اسے صاف کر کے اس پر پالش کرتا ہوں اور پھر انہیں مطلوبہ پیمائش کے مطابق کاٹ لیتا ہوں۔ اس کے بعد ان کی سجاوٹ کا عمل انجام دیتا ہوں"۔

کبیر حسین کے قلموں کو پاکستان اور بیرون ملک خطاطی کے متوالوں کی بھرپور توجہ حاصل رہتی ہے۔ تاہم ان کا شکوہ ہے کہ حکومتی سطح پر خطاطی اور اس کے ماہر افراد کے حوالے سے دل چسپی کا اظہار نہیں کیا جاتا۔ البتہ کبیر اس حوالے سے پر عزم ہیں کہ وہ اپنے بیٹوں میں اس ہنر اور فن کو منتقل ضرور کریں گے۔ کبیر اس فن کے تحفظ کو ثقافتی اور مذہبی ذمے داری خیال کرتے ہیں۔

قلم علم و معرفت کا آلہ تھا اور اب بھی ہے ... بقول شاعر قلم کی رفعت و منزلت کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں قلم کی قسم کھائی ہے۔