.

ریوڑی۔۔۔ پاکستان میں موسم سرما کی ایک اہم سوغات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر میں اقوام کی عادات وثقافتیں مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں۔ اسی طرح ان کے طرح طرح کے عوامی پکوان اور کھانے پینے کی مقبول اشیاء بھی ہوتی ہیں۔ پاکستان میں "ریوڑی" کا شمار ان عوامی مٹھائیوں میں ہوتا ہے جن کی طلب میں سردیوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ریوڑی کی تیاری میں مشینوں کے داخل ہونے کے باوجود پاکستان میں کئی خاندانوں نے اس مٹھائی کو تیار کرنے کا روایتی طریقہ برقرار رکھا ہوا ہے۔

ریوڑی کے خاص اور خالص اجزاء کے پیش نظر موسم سرما میں لوگوں میں اس کو کھانے کا شوق بڑھ جاتا ہے۔ اس رجحان میں ریوڑی کا امتیازی ذائقہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔

ریوڑی تیار کرنے والے ایک کارخانے کے ذمے داری سہیل بلال کہتے ہیں "میرا خاندان ہندوستان سے ہجرت کر کے آیا تھا جس کے بعد 1970ء کی دہائی میں اس نے ریوڑی تیار کرنے کا کام شروع کیا۔ ہم ریوڑی کی تیاری میں خام گنے کی چینی، خالص دیسی گھی اور سفید تلوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ہم نے ابھی تک اپنے باپ دادا کا طریقہ برقرار رکھا ہوا ہے اور یہ ہی ہماری کامیابی کا راز ہے"۔

ریوڑی کی تیاری مختلف مراحل سے گزر کر پایہ تکمیل تک پہنچتی ہے۔

سہیل بلال نے مزید بتایا کہ " ہم دو طرح کی ریوڑی تیار کرتے ہیں۔ ان میں ایک عام ذائقے کی ہوتی ہے اور دوسری میں سبز چھوٹی الائچی کا ذائقہ ہوتا ہے۔ ماضی میں ریوڑی کی تیاری مشینوں کے بغیر ہاتھوں سے ہوا کرتی تھی۔ یہ مشقت طلب عمل تھا اور اس طرح تیار ہونے والی مقدار محدود ہوتی تھی۔ تاہم مشینوں کے آنے کے بعد مقدار اور لوگوں کی دل چسپی میں اضافہ ہو گیا ہے"۔

پاکستان میں لوگوں کا خیال ہے کہ ریوڑی اپنے اجزاء کے پیش نظر نزلہ ، زکام اور ٹھنڈ جیسے امراض میں مفید ہے۔ عام طور پر اسے ہلکی پھلکی غذا کے طور پر کھایا جاتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے لوگ ریوڑی کو بطور تحفہ بیرون ملک رہنے والے عزیز و اقارب کو بھی بھیجتے ہیں تا کہ انہیں وطن کی یاد دلائی جا سکے۔

ماضی کے جھروکوں اور عظمت رفتہ کے بیچ ریوڑی نے ابھی تک اپنی خصوصیات اور مقام برقرار رکھا ہوا ہے ... اور پاکستان میں اس مٹھائی کا نسل در نسل سفر جاری ہے۔