.

سعودی عرب جانے والے پاکستانی عمرہ زائرین کے لیے پی آئی اے کے نئے کرایوں کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی نے ملک سے عمرے کے لیے سعودی عرب جانے والے زائرین کے نئے کرائے متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کے ترجمان عبداللہ خان نے بتایا ہے کہ عمرہ زائرین کا دو طرفہ کرایہ قریباً 97 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے اور سوموار نو نومبر سے ان کرایوں کا اطلاق ہوگا۔اس کے بعد عمرہ زائرین پی آئی اے کے ذریعے سفر کر سکیں گے۔

سعودی حکومت نے غیر ملکی عمرہ زائرین کو یکم نومبر سے ملک میں آنے کی اجازت دے دی تھی۔اس وقت پی آئی اے کی سعودی عرب کے چار شہروں جدہ، مدینہ منورہ ، الریاض اور الدمام کے لیے پروازیں جاری ہیں۔

ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ ’اقامہ رکھنے والے اور عمرہ زائرین کے لیے الگ الگ کرائے مقرر کیے جاتے ہیں۔عمرہ زائرین کو لانے کی اجازت ملنے کے بعد اب الگ کرائے متعارف کروائے گئے ہیں۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ٹریول گروپ کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کے نئے کرایوں کے اعلان کے بعد آیندہ ہفتے سے پاکستان سے عمرہ کے لیے بکنگ کا آغاز کر دیا جائے گا لیکن عمرہ کے پیکجز کے حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے عمرہ زائرین کے لیے الگ سے ایس او پیز کا اعلان کیا گیا ہے اور ان کی وجہ سے بھی اب عمرے کے معمول کے اخراجات میں اضافہ ہوگا۔

عمرہ زائرین کے لیے ایس او پیز؟

سعودی حکومت نے عمرہ زائرین کے لیے آمد سے قبل کرونا وائرس کا ٹیسٹ لازمی قرار دیا ہے اور عازمین کو سعودی عرب پہنچنے کے بعد تین دن قرنطینہ میں بھی رہنا ہوگا۔اس قیام کے اخراجات بھی مجوزہ پیکج میں شامل ہوں گے۔اس کے علاوہ زائرین کو مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بار بار روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ انھیں صرف ایک بار ہی ریاض الجنہ میں داخل ہونے اور سلام پیش کرنے کی اجازت ہوگی۔

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ایک کمرے میں صرف دو زائرین کو رہنے کی اجازت ہوگی جبکہ بکنگ صرف تھری اور فائیو سٹار ہوٹلوں میں کروانا ہوگی۔سعودی وزارت حج و عمرہ کی جانب سے خارجی عمرہ زائرین کے لیے جاری کردہ قواعد وضوابط کے تحت 18 سے 50 برس تک عمر کے افراد ہی کو مملکت میں عمرے کی ادائی کے لیے آنے کی اجازت ہوگی۔

سعودی وزارت حج و عمرہ نے عمرہ زائرین پر بعض مزید پابندیاں بھی عاید کی ہیں۔مثلاً مسجد الحرام میں عمرہ اور نماز نیز مسجد نبوی کی زیارت اور ریاض الجنۃ میں نماز کے لیے پیشگی بکنگ کرانا ہوگی۔یہ بکنگ سعودی وزارت حج وعمرہ کی اعتمرنا ایپ کے ذریعے کرائی جائے گی۔

ہر عمرہ زائر کے پاس مملکت سے پاکستان واپسی کا کنفرم ٹکٹ ہونا بھی ضروری ہے۔ عمرہ زائرین کو مملکت آمد سے لے کر واپسی تک قیام کے دوران ایس او پیز سے آگاہ کرنا بھی عمرے پر لے جانے والی کمپنی یا ادارے کی ذمہ داری ہے۔

وزارت حج وعمرہ کا کہنا ہے کہ عمرہ زائرین کو گروپوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ہر گروپ 50 زائرین پر مشتمل ہوگا۔ عمرہ کمپنی کو ہر گروپ کا گائیڈ متعین کرنا ہوگا جبکہ ٹکٹ، رہائش اور ٹرانسپورٹ کا مکمل پیکج بھی بک کرنا ہوگا۔

وزارت کا کہنا ہے کہ سعودی عمرہ کمپنی ہی عمرہ زائر کے پیکج میں مذکور خدمات پیش کرنے اور اس کی تعمیل کرانے کی ذمہ دار ہوگی۔ کسی بھی کمی یا سُقم کی اصلاح بھی اسی کی ذمے داری ہوگی۔