.

پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق ’امریکی دباؤ‘ میں کوئی صداقت نہیں: دفتر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرق وسطیٰ کے ایک جریدے نے پاکستانی میڈیا کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ کے بارے میں آن ریکارڈ بات کی۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے منگل کو ان میڈیا اطلاعات کو من گھڑت قرار دے کے مسترد کر دیا ہے، جن کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ امریکہ کی طرف سے پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ ہفتے مقامی میڈیا کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ 'اسرائیل کو تسلیم کرنے کے دباؤ کے پیچھے امریکہ میں اسرائیل کا گہرا اثر ورسوخ ہے اور یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں 'غیرمعمولی' ہوگیا ہے۔'

ساتھ ہی عمران خان نے کہا تھا: 'میں مسئلہ فلسطین کے قابل اطمینان حل تک اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔'

پیر کو مشرق وسطیٰ کے ایک جریدے نے پاکستانی میڈیا کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ کے بارے میں آن ریکارڈ بات کی۔ رپورٹ کی اشاعت کے بعد منگل کو پاکستانی دفتر خارجہ کا ردعمل سامنے آیا۔

دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا: 'وزیراعظم نے پاکستان کا مؤقف دوٹوک الفاظ میں واضح کیا تھا کہ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل، جو فلسطینی عوام کے لیے قابل اطمینان ہو، تک پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا۔'

مزید کہا گیا: 'وزیراعظم کے الفاظ اس معاملے میں پاکستان کے مؤقف کی واضح طور پر توثیق کرتے ہیں، جس کے بعد بے بنیاد قیاس آرائی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔'

اس وقت پاکستان اسرائیلی ریاست کو تسلیم نہیں کرتا اور اقوام متحدہ کی فلسطین سے متعلق قرارداد کی کئی بار حمایت کرچکا ہے۔

اسرائیل نے 1967 میں مشرق وسطیٰ کی جنگ میں عرب مشرقی بیت المقدس پر قبضہ کرلیا تھا اور بعد میں اسے اسرائیل میں ضم کر کے پورے شہر کو دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اس اقدام کوعالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا جبکہ فلسطین مشرقی بیت المقدس کو مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتا ہے۔