.

ہم سا ہو تو سامنے آئے: سخت جان ورزش کرنے والا پاکستانی نوجوان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کچھ عرصہ قبل پنجاب کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نوجوان ارشد تارڑ کو شہرت ملنا شروع ہو گئی۔ وہ زرعی ٹریکٹر کو اپنے ہاتھوں سے اٹھا سکتا ہے اور سخت جان ورزشیں انجام دیتا ہے۔ ارشد نے ورزش کا آغاز دس برس پہلے کیا تھا اور اب وہ اس میں مکمل شغف رکھتا ہے۔ پاکستانی نوجوان کو امید ہے کہ وہ ایک روز چیمپین بنے گا جس کو اندرون و بیرون ملک عالم گیر شہرت حاصل ہو گی۔

ارشد اپنی طاقت اور منفرد خدا داد صلاحیت کے بل بوتے پر شہرت حاصل کر رہا ہے۔ وہ نہ صرف سخت جان ورزشیں کرتا ہے بلکہ کئی منٹ تک ٹریکٹر کو بھی روک کر رکھ سکتا ہے۔

ارشد نے العربیہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "مجھے بچپن سے ہی سخت جان ورزشوں سے پیار تھا۔ مجھے فری اسٹائل کُشتی اور لڑائی کے فنون پر مشتمل مقابلے دیکھنا پسند ہے۔ یہ چیزیں میرے جذبے کو متحرک رکھتی ہیں۔ میں روزانہ کئی گھنٹے ورزش کرتا ہوں۔ میں نے مقامی سطح پر کُشتی کے مقابلوں میں کئی انعامات جیتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ میں عالمی مقابلوں میں بھی شرکت کروں"۔

ورزش کے مراکز اور تربیت کاروں کے بغیر ارشد نئے ریکارڈ قائم کرنے کا مصمم ارادہ رکھتا ہے۔ وہ توازن برقرار رکھنے اور برداشت کے حوالے سے خصوصی ورزشوں کے ذریعے اپنے حریفوں کو چیلنج کرنے کے لیے پُر عزم ہے۔ دباؤ کی ورزش کے سلسلے میں ارشد اپنے جسم پر ٹریکٹر کے بڑے حجم کے ٹائر رکھ کر ڈنٹ پیلتا ہے۔

ارشد کہتا ہے کہ "میں نئے ریکارڈز قائم کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے بعض بھارتی کھلاڑیوں کو ٹریکٹر اٹھاتے ہوئے اور ٹائروں کے ساتھ ورزش کرتے ہوئے دیکھا لہذا میں نے ان کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا اور ان پر برتری حاصل کر لی"۔

اگرچہ ڈاکٹر حضرات ارشد کو اس کی خطرناک نوعیت کی ورزشوں سے خبردار کرتے ہیں تاہم وہ ان کو جاری رکھنے اور اپنے گاؤں کے لوگوں کو لطف اندوز کرنے پر مُصر ہے۔ گاؤں کے لوگ ارشد پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

ارشد کے والد احسان اللہ تارڑ نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "میں بیرون ملک ملازمت کے دوران اپنے بیٹے کے وڈیو کلپس دیکھ چکا تھا البتہ یہ پہلا موقع ہے کہ میں اسے اپنی آنکھوں کے سامنے طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ مجھے مسرت اور فخر محسوس ہو رہا ہے مگر مجھے ارشد کے ٹریکٹر کو اٹھا کر روکنے پر تشویش ہے کہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ اس کے سوا دیگر ورزشوں اور مظاہروں پر میں اس کو سپورٹ کرتا ہوں"۔

اپنی کم عمری اور امکانات کی کمی کے باوجود ارشد تارڑ نے عوامی کشتی کے مختلف مقابلوں میں کامیابی حاصل کی۔ وہ مزید کامیابیوں اور کامرانیوں کا خواہاں ہے۔

ارشد کی نظریں اس حد تک موقوف نہیں ہیں ، وہ مقامی اور عالمی سطح پر چیمپن بننا چاہتا ہے۔