.

ثمر کی ’فری کاون‘ تحریک ثمربار ہو گئی؛ کاون بالآخر کمبوڈیا سدھار گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کے چڑیا گھر میں کئی سالوں سے نامساعد حالات میں رہنے پر مجبور 36 سالہ ہاتھی کاون کو عدالتی حکم پر کمبوڈیا منتقل کرنے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ کاون اتوار کو بذریعہ ہوائی جہاز کمبوڈیا منتقل کیا جائے رہا ہے۔

کاون کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر سے اسے موزوں ماحول فراہم کرنے کے لیے کمبوڈیا منتقل کیا جا رہا جسے دنیا میں ہاتھیوں کے لیے محفوظ ٹھکانہ سمجھا جاتا ہے۔

کاون کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی اور ملکی سطح پر مہم چلائی جاتی رہی ہے۔ اس مہم میں امریکی گلوکارہ شیر بھی پیش پیش رہی ہیں اور انہوں نے مئی میں ٹوئٹر پر کاون کا معاملہ اُجاگر کیا تھا جس کے بعد عدالت نے فیصلہ جاری کیا تھا۔

کاون کا سوانحی خاکہ

دنیا کا سب سے تنہا ہاتھی ’کاون‘ سری لنکا میں 1981 میں پیدا ہوا۔ وہ صرف چار سال کا تھا جب سری لنکا کی حکومت نے اسے پاکستان کے اس وقت کے فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کی درخواست پر پاکستان کو تحفے میں دے دیا۔

کاون پاکستان آیا تو اسے اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر رکھا گیا جو کاون کا گھر بن گیا۔ کیونکہ کاون اسلام آباد کے چڑیا گھر کا پہلا اور واحد ہاتھی تھا تو لوگ اسے دور دور سے دیکھنے آتے اور بچے تو کاون پر چڑھ کر بڑے شوق سے تصویریں بناتے۔ یہاں تک کہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنے بچپن میں کاون کی سواری کی تھی۔

کاون سب ہی بچوں کا دوست تھا لیکن کاون کو بھی تو ایک دوست کی ضرورت تھی جو اس کے ساتھ رہے، کھائے پیے اور کھیلے کودے۔ لیکن پاکستان کے جنگلوں میں تو ہاتھی ہوتے ہی نہیں۔ تو کاون ہاتھی کا ساتھی لاتے بھی تو کہاں سے؟

لیکن پھر بالآخر کاون کو اس کی سہیلی مل گئی۔ سنہ 1991 میں بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء نے ایک ہتھنی پاکستان کی حکومت کو تحفے میں دی جسے ’سہیلی‘ کا نام دیا گیا۔ کاون کی طرح سہیلی بھی سری لنکا میں 1989 میں پیدا ہوئی اور وہاں اس کا نام مانیکا رکھا گیا تھا، لیکن جب وہ پاکستان آئی تو اس کا نام سہیلی رکھ دیا گیا۔

کاون کو اپنا ساتھی تو مل گیا لیکن اسے بھی کاون کی طرح زنجیروں میں باندھ دیا گیا اور کاون اور سہیلی دن رات بس انھی زنجیروں میں بندھے رہتے۔ کچھ عرصے بعد سہیلی کی طبعیت خراب ہونے لگی اور اس کے پاؤں میں تکلیف اتنی بڑھ گئی کہ 22 سال کی سہیلی سے کھڑا بھی نہیں ہوا جاتا تھا۔ اور پھر ایک دن سہیلی اس تکلیف کی وجہ سے دم توڑ گئی۔ جب کاون کی سہیلی ہلاک ہوئی تو تب بھی وہ اور کاون زنجیروں میں ہی بندھے تھے۔

سنہ 2012 میں سہیلی کے مر جانے کے بعد بے چارہ کاون ایک بار پھر اکیلا ہو گیا۔ زنجیروں میں جکڑا کاون اکیلے ہونے کی وجہ سے دن بدن ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا چلا گیا اور وہ ہر وقت یا تو پریشانی میں اپنا سر ایک سے دوسری جانب ہلاتا رہتا یا دیواروں اور درختوں سے سر ٹکراتا۔

کئی سال گزر گئے اور کاون اسی طرح اسلام آباد کے چڑیا گھر میں رہتا رہا۔ پریشان، تنہا، زنجیروں میں بندھا۔ یہ 2015 کی گرمیوں کی بات ہے جب ایک دن امریکہ سے چھٹیاں گزارنے پاکستان آئی ہوئی ثمر خان اور ان کی والدہ نے اسلام آباد کے چڑیا گھر کا رخ کیا۔ جب ثمر کاون کے پنجرے کے پاس پہنچی تو وہ کیا دیکھتی ہیں کہ کاون زنجیروں میں کھڑا ہے اور مسلسل بس اپنا سر دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں ہلا رہا ہے۔ چونکہ ثمر اس وقت جانوروں کی ڈاکٹر بن رہی تھیں وہ فوراً سمجھ گئیں کہ کاون کی ذہنی صحت ٹھیک نہیں۔ انھوں نے ٹھان لی کہ وہ کاون کو وہاں سے آزاد کروا کر رہیں گی۔