.

پاکستانی سائیکلسٹ نے ہینڈل اور بریک کے بغیر 3.5 ہزار کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بلوچستان کے علاقے نوشکی سے تعلق رکھنے والے عطاء اللہ بلوچ سائیکل پر 34 روز کا سفر مکمل کر کے اسلام آباد پہنچ گئے۔ ان کی سائیکل میں ہینڈل اور بریک نہیں ہے۔ اس دوران وہ پاکستان کے مختلف صوبوں میں متعدد شہروں اور دیہات گئے۔

عطاء اللہ بلوچ کہتے ہیں کہ "میں نے اس سفر کے دوران سائیکل پر 3467 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا۔ میں گنز ورلڈ ریکارڈز میں شامل ہونے کے لیے پر امید ہوں۔ میرا مقصد امن اور محبت کو پھیلانا ہے۔ میں دنیا بھر میں گھوم کر پاکستان کا ایک مسلم اور پر امن ملک کے طور پر تعارف پیش کرنا چاہتا ہوں"۔

عطا اللہ بلوچ

عطاء اللہ کا سائیکل کے ساتھ تعلق بچپن سے ہے۔ انہوں نے وقت گزرنے کے ساتھ اس میں مہارت حاصل کی اور پھر ایک سرکاری ادارے میں بطور کوچ کام کرنے لگے۔ عطاء اللہ ہینڈل اور بریک کے بغیر سائیکل چلانے سے نہیں ڈرتے تاہم وہ سائیل چلانے کے دوران نہایت ہوشیار اور چوکنا رہتے ہیں۔

عطا اللہ بلوچ

عطاء اللہ کے مطابق ہینڈل اور بریک کے بغیر سائیکل چلانا ایک مشکل اور خطرناک عمل ہے۔ بالخصوص پہاڑی علاقوں میں ،،، مگر یہ ناممکن نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "روزانہ سائیکل چلا کر میں نے خود کو اس کا عادی بنا لیا۔ اس سفر کے دوران میں نے روزانہ تقریبا 80 کلو میٹر اور بعض مرتبہ 120 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا۔ سفر کے دوران میں آرام کے لیے ٹھہرتا رہا۔

عطاء اللہ کا راستہ کوئی پھولوں کی سیج نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے راستے پر کئی چیلنجوں اور رکاوٹوں کا سامنا کیا۔ تاہم صبر اور عزم کے ساتھ عطاء اللہ نے ہر مشکل کو پار کیا۔

عطا اللہ بلوچ

ہینڈل اور بریک کے بغیر عطاء اللہ بلوچ پاکستان کے اندر سائیکل پر سفر کرنے میں کامیاب رہے۔ تاہم ان کی خواہش یہاں تک محدود نہیں بلکہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایک روز وہ سائیکل پر دنیا بھر میں گھوم کر گینز ورلڈ ریکارڈز میں اپنا نام شامل کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔