بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کے بعد کچھ شہروں میں بجلی بحال: وزیر توانائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ بریک ڈاؤن کے بعد بڑے شہروں میں بجلی کی جزوی بحال کی جا چکی ہے تاہم خرابی کی وجوہات کا تعین تاحال نہیں کیا جا سکا اور ٹیمیں گدو کے علاقے میں موجود ہیں۔

اتوار کو اسلام آباد میں وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ ’سنیچر کو گیارہ بج کر 41 منٹ پر گدو پاور پلانٹ میں خرابی پیدا ہوئی اور اس کے بعد سسٹم نے خود کو بند کرنا شروع کر دیا۔‘

وزیر توانائی نے کہا کہ جس وقت خرابی پیدا ہوئی دس ہزار 302 میگاواٹ چل رہے تھے جو سسٹم سے آؤٹ ہو گئے۔ عمر ایوب نے بتایا کہ ’تربیلا کو دو بار سٹارٹ کیا۔ اسلام آباد، لاہور اور فیصل آباد کے آدھے شہر میں بجلی آ چکی ہے۔ مزید چند گھنٹے لگیں گے۔‘

وزیر توانائی نے کہا کہ ’ٹیمیں رات سے گدو کے علاقے میں موجود ہیں۔ ابھی تک فالٹ نظر نہیں آیا۔ دھند کم ہوگی تو معلوم ہوگا۔‘

اس موقع پر وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بتایا کہ اگر ترسیل کا نظام درست نہ ہو تو بجلی کی پیداوار سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔

انہوں نے ماضی کی حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’بدقسمتی سے جنریشن پلانٹس لگا دیے گئے مگر ترسیل کا نظام درست نہیں کیا گیا۔‘

’ترسیل کا نظام 25 ہزار تک بجلی اٹھا سکتا ہے ۔ ہماری حکومت نے آتے ہی ترسیل کے نظام پر توجہ دی۔‘

عمر ایوب نے بتایا کہ ’انکوائری کرائیں گے، یہ تکنیکی نوعیت کا کام ہے، انجینیئرز کریں گے۔ ذمہ داری کا جہاں تک تعلق ہے تو یہ سسٹم کا مسئلہ ہے، سسٹم کو بہتر کرنا ہوتا ہے۔‘

وزیر توانائی نے کہا کہ ان کی حکومت نے انچاس ارب روپے ٹرانسمیشن سسٹم پر لگائے۔ ’ن لیگ کی حکومت میں اٹھارہ ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی سسٹم نہیں اٹھا سکتا۔ ہماری حکومت نے 24 ہزار میگاواٹ تک اپ گریڈ کیا ہے۔‘

عمر ایوب کے مطابق بریک ڈاؤن صرف پاکستان نے دنیا کے مخلتف ممالک میں ہوتا ہے۔ سابق حکومتوں کے دور میں اس طرح کے آٹھ واقعات ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں