.

شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں سے جھڑپ،ایل اوسی پر بھارتی فوج کی فائرنگ؛4 پاکستانی فوجی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ میں آرمی کے تین جوان شہید ہوگئے ہیں۔ادھر آزاد اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان واقع لائن آف کنٹرول پربھارتی فوجیوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایک اور پاکستانی فوجی شہید ہوگیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے جمعرات کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف دو کارروائیاں کی ہیں اور ان میں دو مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ان دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں تین فوجی جوان شہید ہوئے ہیں۔ ان کی شناخت سپاہی عزیب احمد ، سپاہی ضیاء الاسلام اور لانس نائیک عباس خان کے نام سے کی گئی ہے۔ان تینوں شہداء کا تعلق بالترتیب صوبہ خیبرپختونخوا کے اضلاع کرک ، بنوں اور اورکزئی سے تھا۔

اس واقعہ سے دوروز قبل ہی شمالی وزیرستان کے علاقے سپین وام میں ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں دو فوجی شہید اور تین زخمی ہوگئے تھے۔دہشت گردوں نے اس فوجی چیک پوسٹ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا۔سکیورٹی فورسز نے اس واقعے کے بعد حملہ آوروں کو پکڑنے کے لیے تلاشی کی کارروائی شروع کردی تھی۔

کنٹرول لائن پر فائرنگ کا تبادلہ

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق پاکستان کے زیرانتظام ریاست آزاد جموں وکشمیر اوربھارت کے زیرانتظام مقبوضہ جموں وکشمیر کے درمیان واقع حد متارکہ جنگ پرمسلح جھڑپ ہوئی ہے۔اس کی پہل بھارتی فوجیوں نے کی تھی اور انھوں نے کنٹرول لائن کے دیوا سیکٹر پربلااشتعال فائرنگ شروع کردی تھی۔

پاکستان آرمی کے فوجیوں نے اس کا فوری جواب دیتے ہوئے دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’’فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران میں سپاہی نبیل لیاقت جام شہادت نوش کرگیا ہے۔اس کا تعلق گجرخان سے تھا۔‘‘

آئی ایس پی آر نے بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر جنگ بندی سے متعلق 2003ء میں طے شدہ سمجھوتے کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی ہے۔نئی دہلی نے فوری طور پر اس واقعے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔