.

جنوبی وزیرستان میں پاکستانی فورسزکی چھاپا مار کارروائی میں دو طالبان دہشت گرد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے شمالی مغربی ضلع جنوبی وزیرستان میں کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے ایک ٹھکانے پر چھاپا مار کارروائی کرکے دو مشتبہ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے سوموار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ ’’سکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان کے علاقے نرگوسا میں انٹیلی جنس کی بنیادپر کارروائی کی ہے اور فائرنگ کے شدید تبادلے کے نتیجے میں دو دہشت گرد عثمان علی اور وحید ہلاک ہوگئے ہیں اور ان کے تیسرے ساتھی کو زخمی حالت میں پکڑ لیا گیا ہے۔‘‘

بیان میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ہلاک دہشت گرد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سجنا گروپ کے فعال رکن تھے۔وہ بم سازی اور بارودی سرنگیں بنانے کے ماہر تھے،دہشت گردوں کو تربیت دیتے تھے اور سکیورٹی فورسز پر متعدد حملوں میں ملوّث تھے۔

بیان کے مطابق ان میں سے ایک دہشت گرد عثمان گذشتہ سال اکتوبر میں فوجیوں پربم حملے میں ملوّث تھا۔اس حملے میں پاک فوج کے ایک کپتان سمیت چھے فوجی شہید ہوگئے تھے۔

کالعدم ٹی ٹی پی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول تھی۔ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے تب ایک مختصر بیان میں کہا تھا کہ ان کے گروپ نے شمالی وزیرستان سے متصل شکتوئی کے علاقے میں سڑک کے کنارے نصب بم کے ذریعے فوجیوں کے قافلےپر حملہ کیا تھا۔

پاکستان کے شمال مغرب میں واقع سابق قبائلی علاقوں اور اب صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم شدہ اضلاع میں ٹی ٹی پی سے وابستہ جنگجوؤں نے سکیورٹی فورسز پر حالیہ ہفتوں میں حملے تیز کردیے ہیں۔ان کے پیش نظر ان خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ افغانستان کی سرحد کے ساتھ واقع ان علاقوں میں پاکستانی طالبان اور دوسرے جنگجو دوبارہ منظم ہورہے ہیں۔

14 جنوری کو قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ میں پاک آرمی کے تین جوان شہید ہوگئے تھے۔اسی روز سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف دو کارروائیاں کی تھیں اور ان میں دو مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس واقعہ سے دوروز قبل گذشتہ منگل کو شمالی وزیرستان کے علاقے سپین وام میں ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں دو فوجی شہید اور تین زخمی ہوگئے تھے۔دہشت گردوں نے اس فوجی چیک پوسٹ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان گذشتہ برسوں کے دوران میں مقامی اور غیرملکی جنگجوؤں کا مضبوط گڑھ رہے تھے۔پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے ان دونوں علاقوں میں جنگجوؤں کے خلاف مختلف کارروائیاں کی تھیں اور انھیں 2015ء میں جنگجوؤں سے کافی حد تک پاک کردیا تھا اور بڑے جنگجو گروپ ٹولیوں میں بٹ کر افغانستان کے مشرقی اور جنوب مشرقی صوبوں کی جانب راہ فرار اختیار کرگئے تھے یا ادھر دشوار گذار پہاڑی علاقوں میں روپوش ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجوافغانستان کے طالبان مزاحمت کاروں سے الگ وجود رکھتے ہیں۔افغان طالبان ان سے لاتعلقی کا اظہار کرچکے ہیں تاہم مشرقی افغانستان میں مقامی سطح پرعلاقائی طالبان کمانڈروں اور پاکستانی جنگجوؤں کے درمیان روابط قائم ہیں۔مؤخرالذکر کے افغانستان میں داعش کے جنگجوؤں سے بھی روابط ہیں۔