.

حکمران جماعت کو بھارت اور اسرائیل سے عطیات ملے: مریم نواز کا الزام

عمران حکومت منتخب ہے نہ اسے ملک پر حکومت کرنے کا حق ہے: سربراہ پی ڈیم ایم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے اس لیے فارن فنڈنگ کیس کو دبایا کیونکہ ان کو انڈیا اور اسرائیل سے پیسہ فراہم کیا گیا۔منگل کو الیکشن کمشن کے سامنے پی ڈی ایم کے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ ساڑھے چھ سال سے فارن فنڈنگ کیس کو آگے نہیں بڑھنے دیا گیا۔

انہوں نے عمران خان کے اس بیان ’مجھے پی ڈی ایم سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پی ڈی ایم کا ہی دباؤ ہے کہ ساڑھے چھ سال سے دبے کیس کو کھولنا پڑا۔ یہ اگر احتجاجی ریلی اور احتجاج ہے تو دیکھ لو جس دن عوام لانگ مارچ کے لیے پہنچیں گے تو کیا عالم ہو گا۔

مریم نواز کے مطابق ’ہم جہاں کھڑے ہیں اسے شاہراہ دستور کہتے ہیں، اس کے دونوں طرف انصاف دینے والے ادارے ہیں لیکن افسوس کہ پاکستان میں آئین ہے نہ انصاف ہے‘۔ مریم نواز نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو عوام کے ووٹ کا تحفظ کرنا تھا لیکن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ نہیں دیا جو ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم آج ایک ایسی سڑک پر موجود ہیں جس کو شاہراہ دستور کہتے ہیں، جس کے دونوں اطراف انصاف دینے والے ادارے موجود ہیں لیکن بہت افسوس ہے کہ جس ملک میں ہم رہ رہے ہیں وہاں نہ کوئی آئین ہے اور نہ انصاف ہے، آج الیکشن کمیشن کے باہر اس لیے ہم جمع ہوئے ہیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اس کی آئینی ذمہ داریاں یاد دلائیں۔

7 برس، 70 سماعتیں

مریم نواز نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے فراڈ کا نام تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس ہے، نومبر 2014 میں یہ کیس داخل ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا کیس دنوں میں چلتا ہے اور دنوں میں ختم ہوتا ہے اور دن میں دو دو سماعتیں بھی ہوتی ہیں لیکن اس ادارے نے 7 برسوں میں 70 سماعتیں کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر مسلط عمران خان نے مقدمے کو ملتوی کرانے کی 30 بار کوشش کی، کون کہتا تھا کہ اگر چوری نہیں کی تو تلاشی دے دو، آج پی ڈی ایم اور عوام پوچھتے ہیں کہ اگر چوری نہیں کی تو 30 بار مقدمے کو رکوانے کی کوشش کیوں کی۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ اس تابعداد خان نے ہائی کورٹ میں 6 مرتبہ درخواستیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اس مقدمے کی سماعت نہیں کرسکتا اور ای سی پی کی اسکروٹنی کمیٹی بنائی، جس کا کام تحقیقات کرکے تفصیلات عوام کے سامنے رکھنا تھا، جب تحقیقات ہوئی تو جرائم کی لمبی داستان سامنے آئی کیونکہ اوپر سے حکم تھا اور اسکروٹنی کمیٹی کو کہا گیا کہ ان پر ہاتھ ہولا رکھو پھر اسکروٹنی کمیٹی عمران خان اور الیکشن کمیشن کی تابعدار بن گئی۔

انہوں نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی 3 سال سے تحقیقات کر رہی ہے حالانکہ اتنے واضح اور ہوش اڑا دینے والے حقائق ہیں، جن کا فیصلہ تین سال تو کیا تین دن میں ہوسکتا ہے لیکن تین سال سے یہ سانپ بن کر اس کے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 80 سماعتوں کے دوران عمران خان نے کم ازکم 24 مرتبہ کارروائی رکوانے کی کوشش کی اور 4 مرتبہ درخواستیں دی کہ کارروائی کو خفیہ رکھا جائے، اگر اتنا دامن صاف تھا تو کارروائی کو خفیہ رکھنے کے لیے درخواستیں کیوں دی، اس کا مطلب ہے کہ چوری تو ہوئی ہے اور چوری بھی بہت بڑی ہوئی ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ بیان بدلنا ان کا روز کا کام ہے اس لیے انہیں یو ٹرن خان کہتے ہیں، انہوں نے صرف بیان نہیں بدلا بلکہ یہاں 8 وکیل بدلے لیکن 8 وکیلوں کو بدلنے کے باوجود چوری نہیں چھپی، اسٹیٹ بینک نے عمران خان کے 23 خفیہ اکاؤنٹس پکڑے، جو انہوں نے ای سی پی اور پاکستان کے عوام سے چھپا رکھے تھے لیکن اسٹیٹ بینک نے پکڑ لیے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اکاؤنٹ عمران خان کے دستخط سے آپریٹ ہو رہے تھے، یہ نہیں کہ ان کو پتہ نہیں تھا بلکہ جان بوجھ کر عوام اور ای سی پی سے اپنا جرم چھپایا اور اسکروٹنی کمیٹی خود اعتراف کرتی ہے کہ ہم حقائق فراہم نہیں کرسکتے کیونکہ عمران خان نے منع کیا ہے، اب پتہ چلا کہ چور کی گردان کرنے والا خود سب سے بڑا چور نکلا۔

پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمن

اس موقع پر جعمیت علمائے اسلام کے سربراہ اور پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج عوام نے حکمرانوں کو نمونہ دکھا دیا ہے کہ انہیں بھاگنے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔

مولانا فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ 2018 کے الیکشن کے بعد اسی جگہ مظاہرہ کر کے الیکشن کو مسترد کیا تھا اور آج بھی اسی موقف پر قائم ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت منتخب ہے نہ اسے ملک پر حکومت کرنے کا حق ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے الیکشن کمیشن کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر وہ منصفانہ الیکشن نہیں کرا سکتا تو آئندہ اس پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔

انہوں نے وفاقی وزرا کی جانب سے مدارس کے بچے لائے کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف یہ کہتے ہیں کہ ہم مدارس کو قومی دھارے میں لانا چاہتے ہیں اور جب وہ بندوق رکھ کر مثبت سیاست کی طرف آتے ہیں تو اس پر بھی ان کو اعتراض ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مدارس کی تنظیموں نے ہماری آواز پر لبیک کہا ہے۔

انہوں نے بھی بھارتی اور اسرائیلی کی طرف سے فنڈز آنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا انہوں نے اسی لیے کہا تھا کہ 2013 کے بعد اتنا پیسہ آئے گا اور گلی کوچے کی ایک ایک مولوی تک جائے گا اور مولانا فضل الرحمن تنہا رہ جائے گا۔ بقول ان کے ’جب انہوں نے کے پی میں مولویوں کو 10 ہزار وظیفہ دینے کی کوشش کی تو ایک بھی وصول کرنے والا نہیں ملا۔‘

ریلی اور پی ڈی ایم مشاورتی اجلاس

اس سے قبل مریم نواز نے راولپنڈی کے نوازشریف پارک سے ریلی کی قیادت کرنا تھی تاہم پی ڈی ایم کے مشاورتی اجلاس کے باعث مریم نواز، نوازشریف پارک کے سامنے لگے استقبالیہ کیمپ میں نہیں جا سکیں۔

دوسری جانب پی ڈی ایم کا الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کا جائزہ لینے کے لیے وزارت داخلہ میں کنٹرول روم قائم کیا گیا تھا جس کی نگرانی وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا صورتحال خود مانیٹر کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے مطابق ’شاہراہ دستور پر پہلی دفعہ اجازت دی گئی ہے، امید ہے پی ڈی ایم کی قیادت الیکشن کمشن کے باہر احتجاج کو پر امن رکھے گی۔‘