.

لاہور کے اسپتال میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، اسقاط حمل کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صوبہ پنچاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن میں ٹیچنگ اسپتال میں لڑکی کی لاش چھوڑنے کے معاملے میں نئے انکشافات سامنے آگئے۔

پولیس نے لڑکی کو ہسپتال لانے والا دوسرا ملزم بھی گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق دوسرے نوجوان کی شناخت اویس کے نام سے ہوئی اور لڑکی کا اسقاط حمل کرائے جانے کا انکشاف ہوا ہے، شبہ ہے کہ اسی وجہ سے لڑکی جاں بحق ہوئی۔

پولیس ذرائع کے مطابق لڑکی کا اسقاط حمل جھنگ سے کرایا گیا اور پولیس نے اسقاط حمل کرنے والی خاتون سمیت دو افراد کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ گرفتار کئے گئے دونوں ملزمان کے بیانات لئے جارہے ہیں۔

اویس لڑکی کو اسپتال لانے والی گاڑی میں موجود رہا۔ لاش اسپتال میں لے جانے والے ملزم اسامہ منیر کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے جو لڑکی کا کلاس فیلو ہے اور دونوں کے تعلقات تھے۔

گزشتہ روز لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن کے ایک نجی میڈیکل کالج میں ایک طالبہ کی لاش ملی تھی، لڑکی کی شناخت مریم کے نام سے ہوئی، اور اس کا تعلق پنجاب کے ضلع گجرات سے ہے۔

واقعے کی سی سی ٹی فوٹیج منظرعام پر آنے کے بعد پتہ چلا کہ لڑکی کی لاش دو نامعلوم افراد چھوڑ کر گئے تھے، فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک نوجوان لڑکی کو اٹھا کر کالج کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہورہا ہے، جب کہ اس کا دوسرا ساتھی گاڑی میں بیٹھا انتظار کر رہا ہے۔