.

پاکستان میں ایوان بالا کی رکنیت کے لیے کیسے ووٹ خریدے جاتے ہیں؟ ویڈیو سامنے آ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے ایوان بالا [سینیٹ] کے انتخابات میں ارکان اسمبلی کو خریدنے سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے۔ سال 2018 کے سینیٹ انتخابات میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف ’’پی ٹی آئی‘‘ کے ارکان کو بلا کرنوٹوں کے ڈھیر لگا کرخریدا گیا۔

تفصیلات کے مطابق حکومت نے سینیٹ انتخابات 2021 اوپن بیلٹ سے کرانے کی تجویز دی، جس کی اپوزیشن نے مخالفت کی، سینیٹ انتخابات میں منڈی کیسے لگتی ہے، اس حوالے سے 2018کی ویڈیو سامنے آ گئی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے۔

سال 2018 میں پی ٹی آئی کے 20 ارکان اسمبلی کو خریدنے سے متعلق بھی ویڈیو بھی سامنے آئی، 2018 کے سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی ارکان کو بلا کر نوٹوں کے انبارلگا کرخریداگیا۔

ویڈیو میں اراکین اسمبلی کو نوٹ گنتے اور بیگ میں ڈالتے دیکھا جا سکتا ہے ، یہ خرید وفروخت 20 فروری 2018 سے 2 مارچ کے دوران کی گئی تاہم بعد ازاں پی ٹی آئی نے تحقیقات کے بعد ووٹ بیچنے والے 20 ارکان کوپارٹی سے نکال دیا تھا۔

دوسری جانب وزیراعظم سینیٹ انتخابات 2021 اوپن بیلٹنگ سے کرانے کے لئے پرعزم ہیں، وفاقی حکومت اوپن بیلٹنگ کے لئے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کرچکی ہے جبکہ اوپن بیلٹنگ کے لئے ایک آرڈیننس بھی تیار کر رکھا ہے۔

مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور جے یوآئی (ف) اوپن بیلٹنگ کے بڑے مخالف ہیں۔ عمران خان پہلے ہی کہہ چکے میں جانتا ہوں کون خرید وفروخت کے لئے پیسہ جمع کررہا ہے۔ سینیٹ انتخابات سے پہلے اراکین اسمبلی کی وفاداریاں کروڑوں روپے میں خریدی جاتی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی ماضی میں ایک دوسرے پراراکین خریدنے کے الزامات لگا چکی ہے جبکہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ 30 سال سے مجھے پتہ ہے سینیٹ انتخابات میں بولیاں لگتی ہیں۔ 2018میں 20 ایم پی ایز کو ووٹ بیچنے پر پارٹی سے فارغ کیا تھا، ہمارے ایم پی ایز نے 5،5 کروڑ روپے میں ووٹ بیچے تھے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ 2021 کے سینیٹ الیکشن سے پہلے بھی ریٹ لگنا شروع ہوگئے ہیں، مجھے پتہ ہے سینیٹ انتخابات کے لئے کون ریٹ لگا رہا ہے۔