.

اسلام آباد میں سرکاری ملازمین کا احتجاج، پولیس سے جھڑپیں

کئی ملازمین گرفتار، ریڈ زون جانے والے راستے بلاک، سکیورٹی اہلکار تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سرکاری ملازمین سراپا احتجاج بن گئے۔ پولیس نے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا جس کے باعث متعدد ملازمین زخمی ہو گئے۔ گرفتاریاں بھی کی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے کے لیے پاک سیکرٹریٹ کے باہر احتجاج کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو ڈی چوک کی جانب بڑھنے سے روکنے اور منتشر کرنے کے لیے شدید شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔ پولیس شیلنگ اور لاٹھی چارج سے متعدد سرکاری ملازمین زخمی ہو گئے جبکہ کئی کو گرفتار کر لیا گیا۔ ملازمین نے بھی پولیس پر پتھرائو کیا۔

وفاقی سیکرٹریٹ ملازمین پاکستان سیکرٹریٹ کے تمام دفاتر کو بند کر کے احتجاج کر رہے ہیں۔ کابینہ ڈویژن کے ملازمین نے وزارت اطلاعات میں داخل ہوتے ہوئے شبلی فراز کی گاڑی روک لی اور گرفتار رہنماؤں کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔

ادھر فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے ملازمین نے مین سری نگر ہائی وے دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے بلاک کردی۔ جبکہ فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے ملازمین نے مین سری نگر ہائی وے دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے بلاک کردی۔ ٹریفک جام ہو گئی۔ احتجاج کے دوران پولیس اور رینجرز کی بڑی تعداد موجود رہی۔

سیکرٹریٹ کے کیو بلاک میں ملازمین نے ہر قسم کا داخلہ بند کر دیا جبکہ واٹر کینن، بکتر بند گاڑیاں اور پولیس کی بھاری نفری ڈی چوک اور سیکرٹریٹ پر موجود ہے۔ پولیس کی جانب سے ریڈ زون جانے والی تمام شاہراہوں کو بلاک کر دیا گیا جبکہ اسلام آباد کے تمام داخلی راستوں پر سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔

سرکاری ملازمین پنشن، سروس اسٹرکچر، مراعات اور تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے رات گئے سرکاری ملازمین کے رہنمائوں کے گھروں پر چھاپے مارے اور متعدد مزدور رہنمائوں کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا تھا۔