.

شمالی وزیرستان میں مسلح افراد کا حملہ،چارخواتین ورکر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغرب میں واقع ضلع شمالی وزیرستان میں دو مسلح افراد نے چار خواتین کو اندھا دھند فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔

صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم شدہ ضلع وزیرستان کے ایک مقامی پولیس سربراہ شفیع اللہ گنڈاپور نے بتایا ہے کہ ’’ان امدادی ورکر خواتین کی گاڑی پر دومسلح افراد نے حملہ کیا تھا،اس وقت وہ ایک گاؤں سے گذر رہی تھیں۔فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں سوار صرف ایک مسافر بچ سکا ہے۔‘‘

انھوں نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ فوری طور پر کسی نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن یہ یقینی طور پر دہشت گردی کی کارروائی ہے۔

گنڈاپور کے مطابق مقتولہ امدادی کارکن خواتین ایک مقامی ادارے کے زیرانتظام ایک پروگرام سے وابستہ تھیں۔اس کا مقصد خواتین کو گھریلو ہُنر سکھانا ہے۔ایک اور مقامی پولیس افسر رسول خان نے بھی فائرنگ کے اس واقعہ اور ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان کی سرحد کے ساتھ واقع قبائلی علاقوں میں سستے داموں اسلحہ، منشیات اور اسمگل شدہ اشیاء عام دستیاب ہیں۔ماضی میں وفاق کے زیرانتظام یہ قبائلی علاقے مختلف دہشت گرد اور انتہاپسند گروپوں کا گڑھ رہے ہیں۔

پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان ، خبر ایجنسی اوردوسرے قبائلی علاقوں میں دہشت گرد گروپوں کے خلاف گذشتہ پندرہ بیس سال میں مختلف کارروائیاں کی ہیں اور ان کا قلع قمع کردیا ہے لیکن اس کے باوجود وہاں بچے کھچے جنگجو دوردرازعلاوں میں روپوش ہیں اور وہ اس طرح کی تشدد آمیز کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔

پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں 2014ء میں دہشت گرد گروپوں اور ان کے ٹھکانوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کی تھی اوروہاں سے مقامی اورغیرملکی جنگجو گروپوں کا خاتمہ کردیا تھا۔

تاہم بہت سے جنگجو سرحدپار کرکے افغانستان چلے گئے تھے۔اب وہ دشوارگذار سرحد سے گذر کر پاکستانی علاقوں میں گاہے گاہے دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں اور حالیہ دنوں میں سکیورٹی فورسز یا سرکاری اہلکاروں پر ان کے حملوں میں ایک مرتبہ پھر تیزی آئی ہے۔