.

عدالت عظمیٰ کا اسلام آباد میں وکلاء کے غیر قانونی چیمبرز گرانے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی سپریم کورٹ نے وکلاء کے غیر قانونی چیمبرز فوری طور پر گرانے کا حکم دے دیا۔ عدالت کی جانب سے متبادل جگہ کی استدعا بھی مسترد کردی گئی ہے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی 3 رکنی بینچ نے وکلا کے چیمبرز گرائے جانے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے وکلا کے وکیل سے سوال کیا کہ ’’کس بنیاد پر غیرقانونی چیمبرز کو برقرار رہنے دیں؟۔ وکلاء کا فٹبال گراؤنڈ پر کوئی حق دعویٰ نہیں۔ جس نے پریکٹس کرنی ہے اپنا دفتر کہیں اور بنا لے۔‘‘

وکلا کے وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ فٹ بال گراؤنڈ پر کئی عدالتیں بھی بنی ہوئی ہیں۔ جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جو عدالتیں گراؤنڈ کی زمین پر بنی ہوئی ہیں وہ بھی مسمار کردیں۔ کسی غیرقانونی کام کو جواز کیسے فراہم کر دیں؟۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے پیش کش دیتے ہوئے کہا کہ حامد خان صاحب 2 ماہ میں گراؤنڈ خالی کریں؟۔ تاہم حامد خان نے کہا کہ ہائی کورٹ نئی بلڈنگ میں منتقل ہونے تک کا وقت دیں۔ وکلاء کی متبادل جگہ ملنے تک وقت دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ اتنا طویل وقت نہیں دے سکتے۔ چیف جسٹس کی پیشکش قبول نہ کرنے پر عدالت نے بار کی اپیل خارج کر دی۔

عدالت نے کیس پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ وکلاء فوری طور پر فٹ بال گراؤنڈ خالی کریں، جب کہ تمام غیر قانونی چیمبرز کو بھی مسمار کرنے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ نے اسلام آباد بار کی درخواست خارج کرتے ہوئے غیر قانونی چیمبرز مسمار کرنے کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم برقرار رکھا۔

قبل ازیں 27 فروری کو ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو فٹ بال گراؤنڈ، گرین بیلٹس اور فٹ پاتھوں پر بنے وکلا کے غیر قانونی چیمبرز کو گرانے سے روک دیا تھا۔