.

سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ [ای سی ایل] سے نکالنے کا حکم دے دیا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے جنرل اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق اسد درانی کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو کہ ہر پاکستانی شہری کو حاصل ہیں۔

سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ آپ نے کہا تھا کہ اسد درانی کا نام اس لئے ای سی ایل میں رکھا کیونکہ ان کے خلاف انکوائری چل رہی ہے لیکن ریکارڈ کے مطابق اس وقت ان کے خلاف کوئی انکوائری نہیں چل رہی۔ وفاقی حکومت کے پاس کھلی چھوٹ تو نہیں کہ کسی کو بھی ای سی ایل میں ڈال دے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے موقف اختیار کیا کہ وزارت دفاع کے نمائندے موجود ہیں وہ بیان دے سکتے ہیں، جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ کسی کو بھی بلانے کی کوئی ضرورت نہیں،میں نے ریکارڈ دیکھ لیا ہے اور ریکارڈ کے مطابق اسد درانی کے خلاف کوئی انکوائری زیر التوا نہیں۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا۔

یاد رہے کہ اسد درانی کا نام وزارت دفاع کی سفارش پر 2019 میں ای سی ایل پر رکھا گیا تھا۔ وزارت دفاع نے کیس کی سماعت کے دوران اپنے جواب میں کہا تھا کہ اسد درانی نے بھارتی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ اے ایس دلت کے ساتھ مل کر ’اسپائی کرانیکلز‘ نامی کتاب لکھی، کتاب کے معائنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا مواد آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1952 کی خلاف ورزی ہے۔