.

شمالی وزیرستان:سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ٹی ٹی پی کے3 کمانڈروں سمیت 8 دہشت گرد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے افغانستان کی سرحد کے ساتھ واقع قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے دو مختلف کارروائیوں میں کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے تین کمانڈروں سمیت آٹھ مشتبہ دہشت گردوں ہلاک کردیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (َآئی ایس پی آر) نے ہفتے کے روز ایک بیان میں اطلاع دی ہے کہ’’سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقوں بویا اور دوسالی میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق انٹیلی جنس اطلاع کی بنیاد پر دو کارروائیاں کی ہیں۔

بیان کے مطابق ’’سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ٹی ٹی پی کے تین کمانڈرہلاک ہوگئے ہیں۔ان کے نام عبدالانیر المعروف عادل (ٹی ٹی پی طوفان گروپ)،جنید الیاس المعروف جمید (ٹی ٹی پی طارق گروپ)خلیق شاہ دین المعروف ریحان (ٹی ٹی پی صادق نور گروپ) ہیں۔

اس نے مزید کہا ہے کہ یہ دہشت گرد 2009ء سے سکیورٹی فورسز ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی افراد کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوّث تھے۔

’’مہلوک دہشت گردسڑکوں اور راستوں پر دھماکا خیز مواد نصب کرکے حملے کرتے ، لوگوں کو فائرنگ یا اہدافی قتل کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور لوگوں کو تاوان کے لیے اغوابھی کرتے تھے۔اس کے علاوہ وہ علاقے میں دوسرے دہشت گردوں کی بھرتی میں بھی ملوث تھے۔‘‘سکیورٹی فورسز نے ان کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں گولہ بارود اور اسلحہ بھی پکڑا ہے۔

پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان ، خبر ایجنسی اوردوسرے قبائلی علاقوں میں دہشت گرد گروپوں کے خلاف گذشتہ پندرہ بیس سال میں مختلف کارروائیاں کی ہیں اور ان کا قلع قمع کردیا ہے لیکن اس کے باوجود وہاں بچے کھچے جنگجو دوردرازعلاقوں میں روپوش ہیں اور وہ تشدد آمیز کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔

پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں 2014ء میں دہشت گرد گروپوں اور ان کے ٹھکانوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کی تھی اوروہاں سے مقامی اورغیرملکی جنگجو گروپوں کا خاتمہ کردیا تھا۔

تاہم بہت سے جنگجو سرحدپار کرکے افغانستان چلے گئے تھے۔اب وہ دشوارگذار سرحد سے گذر کر پاکستانی علاقوں میں گاہے گاہے دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں اور حالیہ دنوں میں سکیورٹی فورسز یا سرکاری اہلکاروں پر ان کے حملوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔