.

اپوزیشن کا سینیٹ کے پولنگ بوتھ میں خفیہ کیمرے نصب ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا [سینیٹ] میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے انتخاب آج ہو رہا ہے ایسے وقت میں اپوزیشن کی جانب سے پولنگ بوتھ میں خفیہ کیمرے نصب ہونے کا الزام سامنے آیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ 'میں نے اور ڈاکٹر مصدق ملک نے پولنگ بوتھ کے بالکل اوپر نصب کیمرے کا سراغ لگایا'۔

اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے مبینہ خفیہ کیمرے کی تصویر بھی شیئر کی۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر مصدق ملک نے بھی اپنے پیغام میں کہا کہ 'کیا مذاق ہے، سینیٹ کے پولنگ بوتھ میں خفیہ/چھپے ہوئے کیمرے نصب کیے گئے'۔

ساتھ ہی انہوں نے بھی اپنی ٹوئٹ میں 2 تصاویر شیئر کیں۔

دوسری جانب سینیٹرز کی حلف برداری کی تقریب کے بعد پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے مبینہ خفیہ کیمروں کی تنصیب پر اعتراض کیا جس کے بعد اپوزیشن اراکین کے احتجاج نے ایوان کو مچھلی بازار میں تبدیل کردیا۔

تاہم پریزائنڈنگ افسر نے ایجنڈے سے ہٹ کر کوئی معاملہ موضوع بحث لانے سے انکار کر دیا البتہ موجودہ پولنگ بوتھ کو ہٹا کر نیا پولنگ بوتھ لگانے کی ہدایت کی۔

اس ضمن میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سینیٹر مصدق ملک نے بتایا کہ پارٹی کی ہدایت پر وہ اور مصطفیٰ نواز کھوکھر پولنگ بوتھ چیک کرنے پہنچے جہاں عین بوتھ کے اوپر 2 خفیہ کیمرے نصب تھے اور ایک کا رخ ووٹ ڈالنے والے شخص پر جبکہ دوسرے کا فوکس بیلٹ پیپر پر مرکوز تھا۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ کی سیکیورٹی کی ذمہ داری انتظامیہ پر ہے ایسے میں کسی نے اندر جا کر پولنگ بوتھ میں کیمرے لگادیے، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ وہاں ایک لیمپ بھی موجود ہے جس میں سوراخ ہے اور کسی کو معلوم نہیں کہ وہاں کتنے مائیکرو فون نصب ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیچے کی طرف بھی بوتھ میں کوئی ڈیوائس چسپاں ہے جو بظاہر مائیکرو فون کے ساتھ کیمرا لگ رہا ہے کیوں کہ وہ سیلڈ ہے اس لیے ابھی یہ نہیں بتاسکتے کہ وہ مائیکروفون ہے یا کیمرا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں پولیس اسے ثبوت مانتے ہوئے ہمارے سامنے کھولے اور پھر دیکھا جائے کہ اس کے اندر کیا کیا موجود ہے۔

تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2 ڈیوائسز بوتھ کے اندر کی طرف سائیڈ پر لگی ہیں، ایک لیمپ رکھا ہے جس میں 30-40 سوراخ ہیں بلب ہیں تا کہ معلوم نہ ہو سکے کہ یہ کیا ہے اور 2 کیمرے اوپر لگے ہوئے ہیں یہ اس ملک کی ڈسکہ نمبر 2 ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے سینیٹ کے پولنگ بوتھ میں کیمرے لگانے کی تحقیقات کا عندیہ دے دیا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے پولنگ بوتھ میں کیمرا لگانے کی بھرپور تحقیقات کرائیں گے اور متعلقہ لوگوں کو بے نقاب کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی سازش بے نقاب کر دی ہے اور نیا پولنگ بوتھ لگنا چاہے۔

واضح رہے کہ آج چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے سینیٹ میں انتخاب ہو گا اور پولنگ بوتھ میں دو کیمروں کی موجودگی پر سینیٹر شبلی فراز سمیت دیگر ٹی آئی رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں تحقیقات کرانے کا عندیہ دیا۔