.

چیئرمین سینیٹ کیلئے صادق سنجرانی اور یوسف رضا گیلانی میں کانٹے دار مقابلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تحریک انصاف کی حکومت اور اپوزیشن کے امیدواروں کے درمیان سینیٹ کے نئے چیئرمین ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے لیے اہم معرکہ ہو رہا ہے۔

سینیٹ کے ہنگامہ خیز انتخابات کے بعد ایوان بالا کے چیرمین اور نائب چیئرمین کے لیے ہونے والے انتخابی معرکے میں تحریک انصاف اور حکومتی اتحاد کے امیدوار صادق سنجرانی اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار ہیں۔

نائب چیئرمین کے لیے اپوزیشن نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیئر رہنما مولانا عبدالغفور حیدری جب کہ حکومت نے سابق فاٹا سے سینیٹر منتخب ہونے والے مرزا محمد آفریدی کو میدان میں اُتارا ہے۔

پریزائیڈنگ آفیسر سینیٹر مظفر حسین کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس کا آغاز ہوا جس کے دس نکاتی ایجنڈے کے مطابق سب سے پہلے نئے منتخب ہونے والے سینیٹرز کی حلف برداری ہوئی۔ ضوابط کے مطابق صدر مملکت کے مقرر کردہ پریزائڈنگ افسر سینیٹر سید مظفر حسین شاہ نے نو منتخب ارکان سینیٹ سے حلف لیا۔

حلف کی تقریب کے بعد نماز جمعہ سے قبل اجلاس میں وقفہ کردیا گیا۔ جس کے بعد پریڈائیڈینگ آفیسر چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کا شیڈول جاری کریں گے۔

نماز سے قبل پی ڈی ایم امیدواروں یوسف گیلانی اور عبدالغفور حیدری نے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے ہیں۔ تین بجے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے ووٹنگ کروائی جائے گی۔ چیئرمین کے منتخب ہونے کے بعد پریزائیڈنگ افسر نئے چیئرمین سے حلف لیں گے۔ چیئرمین حلف اٹھانے کے بعد ڈپٹی چیرمین کا انتخاب کروائیں گے چیرمین نو منتخب ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے حلف لیں گے۔

سینیٹ رولز کے مطابق دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلے کی صورت میں ایک امیدوار کو ایوان کے اراکین کی مجموعی تعداد کی اکثریت یعنی کم از کم 51 فیصد ووٹ حاصل کرنا ہوں گے۔

حلف اٹھانے والے ارکانِ سینیٹ

ایوان بالا کے 52 ارکان 6 سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے بعد سبک دوش ہو گئے ہیں جبکہ 48 نئے ارکان نے آج حلف اٹھایا۔

آج حلف اٹھانے والے 48 نومنتخب سینیٹرز میں یوسف رضا گیلانی اور فیصل واوڈا سمیت پنجاب سے مسلم لیگ (ق) کے کامل علی آغا، پی ٹی آئی کے سیف اللہ سرور خان نیازی، عون عباس اعجاز احمد چودھری، سید علی ظفر، زرقا سہروردی تیمور مسلم لیگ (ن) کے افنان اللہ خان، ساجد میر، عرفان الحق صدیقی، اعظم نذیر تارڑ اور سعدیہ عباسی۔ سندھ سے پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈوی والا، شیری رحمن، تاج حیدر، شہادت اعوان، جام مہتاب حسین ڈاہر، فاروق نائیک، پلوشہ خان، پی ٹی آئی کے محمد فیصل واوڈا، سیف اللہ ابڑوایم کیو ایم پاکستان کے سید فیصل علی سبزواری اور خالدہ اطیب شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا سے پی ٹی آئی کے محسن عزیز، سید شبلی فراز، لیاقت خان ترکئی، فیصل سلیم رحمن ذیشان خانزادہ، دوست محمد خان، محمد ہمایوں مہمند، ثانیہ نشتر، فلک ناز، گردیپ سنگھ عوامی نیشنل پارٹی کے ہدایت اللہ خان اور جے یو آئی (ف) کے عطا الرحمن حلف اٹھائیں گے۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے پرنس احمد عمر احمد زئی، منظور احمد، سرفرا ز احمد بگٹی، سعید احمد ہاشمی، ثمینہ ممتاز، دنیش کمارنیشنل پارٹی کے محمد قاسم، اے این پی کے عمر فاروق، جے یو آئی کے مولانا عبدالغفور حیدری، کامران مرتضیٰ، تحریک انصاف میں شامل ہونے والے آزاد امیدوار محمد عبدالقادر اور نسیمہ احسان حلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔ 48 ارکان 6 سال کے لئے سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔

سبکدوش ہونے والے سینیٹرز میں سے شبلی فراز، سلیم مانڈوی والا، عبدالغفور حیدری، شیری رحمن، فاروق ایچ نائیک، مولانا عطا الرحمن، لیاقت خان ترکئی، منظور احمد، محسن عزیز، پروفیسر ساجد میر، سرفراز بگٹی اور ذیشان خانزادہ دوبارہ منتخب ہونے والوں میں شامل ہیں۔