.

این سی او سی اجلاس میں متاثرہ مقامات پر سخت بندشوں کا فیصلہ

کرونا کی تیسری لہر، تجارتی مراکز ہفتے میں 2 دن اور رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے قائم نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) نے اپنے اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں لاک ڈاؤن کو وسیع اور سخت کیا جائے، جس میں ایمرجنسی کی صورتحال کے علاوہ تمام نقل و حرکت پر پابندی ہوگی۔

اس سے قبل پاکستانی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ اُن سرگرمیوں پر پابندیوں میں اضافہ کرنے کا عندیہ ظاہر کیا تھا جو کووڈ کو تیزی سے پھیلنے میں مدد دے رہی ہیں جبکہ عملدرآمد کے لیے انتظامیہ کو احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب انڈیا میں گذشتہ ہفتے دو لاکھ 60 ہزار نئے کرونا متاثرین سامنے آئے ہیں۔

این سی او سی کے اعلان کہا گیا ہے کہ:

  • انڈور ڈائننگ یعنی ریستورانوں اور ہوٹلوں کے اندر کھانا کھانے پر مکمل پابندی ہوگی تاہم آؤٹ ڈور یعنی باہر کھانا کھانے کی اجازت رات دس بجے تک ہوگی
  • تمام اوقات میں ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے کی سہولت کی اجازت ہوگی
  • تمام کمرشل یا کاروباری سرگرمیاں اور غیر ضروری سروسز کو رات آٹھ بجے کے بعد بند کر دیا جائے گا، یعنی تمام مارکیٹس اور دکانیں رات آٹھ بجے تک ہی کھلی رکھی جاسکیں گی
  • ہر ہفتے دو محفوظ دن تعطیلات کی صورت میں دیے جائیں گے
  • شادی اور دیگر تقریبات کے لیے عمارتوں سے باہر (آوٹ ڈور) 300 لوگوں کے جمع ہونے کی اجازت ہوگی تاہم انھیں ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا
  • ان ڈور تمام تقریبات پر پابندی رہے گی
  • سینما اور درگاہیں بند رکھی جائیں گی
  • کھیلوں کے ایونٹس اور اجتماعی طور پر ثقافتی تہوار منانے پر پابندی ہوگی
  • آوٹ ڈور شادی کی تقریبات کی اجازت صرف رات 10 بجے تک زیادہ سے زیادہ 300 مہمانوں کی موجودگی کی صورت میں ہوگی
  • پارک بند رہیں گے لیکن ورزش اور جوگنگ ٹریک کھلے رہیں گے
  • نجی و سرکاری دفاتر میں صرف 50 فیصد ملازمین کو بلایا جاسکے گا
  • پبلک ٹرانسپورٹ میں 50 فیصد سیٹوں کو خالی رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے
  • ریلوے سروس 70 فیصد صلاحیت کے ساتھ چل سکے گی
  • تمام افراد کے لیے چہرے پر ماسک پہنا لازم ہوگا
  • عدالتوں میں لوگوں کے ہجوم کی حوصلہ شکنی کی جائے گی
  • گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور کشمیر میں سیاحتی مقامات پر ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا

ان نئے احکامات کا اطلاق 11 اپریل تک ہوگا اور این سی او سی اس پر 7 اپریل کو نظرثانی کرے گا۔

تعلیمی اداروں کی بندش سے متعلق فیصلہ این سی او سی کے 24 مارچ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ فی الحال ملک بھر میں تعلیمی ادارے 28 مارچ تک بند رکھنے کا فیصلہ برقرار ہے۔