.

وزارتِ داخلہ کا سابق وزیراعظم نوازشریف کے پاسپورٹ کی تجدید نہ کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حکومتِ پاکستان نے سابق وزیراعظم اور حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے سپریم لیڈرمیاں نواز شریف کے پاسپورٹ کی تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور انھیں ملک میں لوٹنے کے لیے خصوصی دستاویز جاری کرنے کی پیش کش کی ہے۔

وزارت داخلہ نے بدھ کوایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ وزارت خارجہ کے 19 فروری کے ایک استفسار کے ردعمل میں کیا ہے۔گذشتہ ماہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے خود کو ایک نیا سفارتی پاسپورٹ جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔ان کے پاسپورٹ کی میعاد فروری میں ختم ہوچکی ہے۔

وزیرداخلہ شیخ رشیداحمد نے قبل ازیں جنوری میں یہ اعلان کیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پرلندن میں علاج کی غرض سے مقیم میاں نوازشریف کے پاسپورٹ کی تجدید نہیں کی جائے گی۔

وزارت داخلہ نے دفترخارجہ کو ایک خط لکھا ہے اور اس میں یہ کہا ہے کہ سابق وزیراعظم کے پاسپورٹ کو تجدید کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے نہیں کیا جارہا ہے۔اگر وہ پاکستان لوٹنا چاہتے ہیں تو وہ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعے ہنگامی سفری دستاویز کے حصول کے لیے درخواست دے سکتے ہیں لیکن اس کے اجرا کی بھی یہ شرط ہوگی کہ انھیں صرف پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز(پی آئی اے) کی پرواز سے سفر کرنا ہوگا اور اس کی سیٹ کی پیشگی بُکنگ کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔

وزارت داخلہ نے مزید واضح کیا ہے کہ پاسپورٹ کا اجرا کسی شہری کا بنیادی حق نہیں ہے۔یہ وفاقی حکومت کی ملکیت ہے اور درخواست گزار اگر متعلقہ حکام کو مطمئن کردے تو اس صورت ہی میں اس کو پاسپورٹ جاری کیا جاسکتا ہے لیکن اگر کسی شہری کو قانون کا مفرور قرار دے دیا جائے تو اس کا بیرون ملک سفر کا حق سلب ہوجاتا ہے۔

وزارت داخلہ کا یہ خط لندن میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر کوبھیجا گیا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ’’میاں نوازشریف کو اسلام آباد ہائی کورٹ ایک فوجداری اپیل میں مفرور قرار دے چکی ہے۔انھیں اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت بھی توشہ خانہ ریفرینس کیس میں مفرور قرار دے چکی ہے۔ان حالات میں انھیں پاکستان میں واپس آنا چاہیے اور عدالتوں میں پیش ہوکر اپنے خلاف مقدمات اور فوجداری اپیلوں کا سامنا کرناچاہیے۔‘‘

وزارت داخلہ نے دفتر خارجہ کے توسط سے لندن میں ہائی کمیشن کو بھیجے گئے ایک اور خط میں سابق وزیراعظم کی صحت کی موجودہ حالت کے بارے میں بھی استفسار کیا ہے اور ان سے سات سوالوں کا جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ان میں ان کے برطانیہ میں معالجین کے نام اور پتے ،میڈیکل رپورٹس کی نقول ، ٹیسٹوں کے نتائج ،علاج معالجے اور ڈاکٹروں سے ملاقاتوں کی تفصیل فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔