.

پاکستان:کووِڈ-19کیسوں کی 8 فی صد سے زیادہ شرح والے اضلاع میں شادی تقریبات پرپابندی 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے قومی کمان اور آپریشن مرکز(این سی او سی) نے کروناوائرس کے تشخیص شدہ کیسوں کی 8 فی صد سے زیادہ شرح والے شہروں اور اضلاع میں پانچ اپریل سے شادیوں کی تقریبات پر پابندی عاید کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی وزیربرائے منصوبہ بندی اور ترقی اسد عمر کے زیر صدارت اجلاس میں اتوار کو این سی اوسی نے کروناوائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بعض نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔اجلاس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹری صاحبان ویڈیو لنک کے ذریعے شریک تھے۔ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق گھروں کے اندر اور باہر شادی کی تقریبات پر پابندی ہوگی۔البتہ صوبے برسرزمین صورت حال کے مطابق قبل ازوقت بھی پابندیاں عاید کرسکتے ہیں۔

پاکستان میں اس وقت کروناوائرس کی وَباکی تیسری لہر چل رہی ہے اور روزانہ چار ہزار سے زیادہ کیس ریکارڈ کیے جارہے ہیں۔گذشتہ 24 گھنٹے میں 4767 نئے کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ پہلے سے کووِڈ-19 کا شکار 57 مریض وفات پا گئے ہیں۔21 جون 2020ء کے بعد یہ ایک دن میں سب سے زیادہ کیس ہیں۔ تب 4916 نئے کیس ریکارڈ کیے گئے تھے۔

سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں کووِڈ-19 کے سب سے زیادہ کیس ریکارڈ کیے جارہے ہیں۔اتوار کو اس صوبہ میں 2823 ،خیبرپختونخوا میں 979 ، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 538 ، سندھ میں 252، آزاد جموں وکشمیر میں 112 ،بلوچستان میں 44 اور گلگت بلتستان میں نو نئے کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

اسدعمر کا کہنا تھا کہ نئی سخت پابندیاں عاید کرنے کا فیصلہ وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔حکومت نے شادی کی تقریبات کے علاوہ چار دیواری یا اس سے باہر ہرقسم کے سماجی ، ثقافتی ، سیاسی اور کھیلوں کے اجتماعات منعقد کرنے پر بھی پابندی عاید کردی ہے۔

اجلاس میں بین الصوبائی ٹرانسپورٹ پر پابندی عاید کرنے پر بھی غور کیا گیا ہے۔البتہ اس ضمن میں فیصلہ صوبوں کی جانب سے صوبوں کے درمیان ریل ، شاہراہوں اورفضائی پروازوں کے ذریعے لوگوں کی آمدورفت سے متعلق ڈیٹا موصول ہونے اور اس کے جائزے کے بعد کیا جائے گا۔