.

پنجاب کےکووِڈ-19 کی 12 فی صد سے زیادہ مثبت شرح والےاضلاع میں لاک ڈاؤن کا اعلان 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صوبہ پنجاب کی حکومت نے کووِڈ-19 کے کیسوں کی 12 فی صد سے زیادہ شرح والے اضلاع میں یکم اپریل سے لاک ڈاؤن کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔

صوبائی وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے سوموار کومیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’لاک ڈاؤن 11 اپریل تک جاری رہے گا اور کووِڈ-19 سے متعلق کابینہ کی کمیٹی سات روز کے بعد صورت حال کا جائزہ لے گی۔‘‘

انھوں نے واضح کیا ہے کہ ’’صوبائی حکومت معاشی سرگرمیوں یا صنعتوں پر کوئی پابندی عاید نہیں کرے گی۔تعمیرات ، ٹرانسپورٹ ،مال برداری اور صنعتی شعبے معیاری طریق کار(ایس اوپیز) کی پاسداری کرتے ہوئے کام کرتے رہیں گے۔‘‘

28 مارچ تک پنجاب کے جن اضلاع میں کووِڈ-19 کے مثبت کیسوں کی شرح 12 فی صد سے زیادہ ہے،ان کے نام اور کیسوں کی شرح حسبِ ذیل ہے:لاہور:17 فی صد ،فیصل آباد:15 فی صد ،راول پنڈی:15 فی صد،ملتان:12 فی صد ،سرگودھا:12 فی صد اورسیال کوٹ:12 فی صد۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’’صوبے میں شادی کی تقریبات اور دوسرے اجتماعات پر مکمل پابندی عاید رہے گی۔اس کے علاوہ اورینج لائن میٹرو ٹرین اور سپیڈو بس سروس سمیت ماس ٹرانزٹ ٹرانسپورٹ سسٹم کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔تمام ہوٹلوں اور ریستورانوں کے اندر یا باہر کھانوں پر پابندی ہوگی۔البتہ وہاں سے گھروں میں کھانا لے جانے کی اجازت ہوگی۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ کروناوائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بازاراورمارکیٹیں شام 6 بجے تک کھلی رہیں گی جبکہ دکانیں ہفتے میں دودن بند رہیں گی۔کھیلوں،ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں پر بدستور پابندیاں نافذالعمل رہیں گی۔نیزعوامی پارک بند رہیں گے۔

عثمان بزدار نے خبردار کیا ہے کہ ’’اگرایس اوپیز پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا تو صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔آپ چہرے پر ماسک پہن کر خودکو اور خاندان کے افراد کو بچاسکتے ہیں۔‘‘

انھوں نے صحافیوں کو مزید بتایا کہ اس وقت پنجاب میں 22 لیبارٹریاں کام کررہی ہیں اور ان میں روزانہ 15 ہزار سے زیادہ افراد کے کروناوائرس کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔صوبے میں 125 ویکسی نیشن مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ان میں کروناوائرس کی ویکسین کی 454000 خوراکیں مہیّا کردی گئی ہیں۔ان مراکز میں محکمہ صحت کے 121527 ورکر کام کررہے ہیں۔اب تک 54885 ہیلتھ ورکروں کو ویکسین کی دونوں خوراکیں لگائی جاچکی ہیں۔ان کے علاوہ 60 سال سے زیادہ عمر کے 151447 افراد کو بھی ویکسین لگائی جاچکی ہے۔

وزیراعلیٰ نے اپنی نیوز کانفرنس کے آغاز میں کہا کہ کروناوائرس کی وبا کی تیسری لہر زیادہ خطرناک ہے۔لاہور، گوجرانوالا، گجرات، راول پنڈی، فیصل آباد اورملتان میں پہلے دونوں مراحل کے مقابلے میں زیادہ کیس سامنے آرہے ہیں۔لاہور میں گذشتہ 24 گھنٹے میں کووِڈ-19 کے مثبت کیسوں کی شرح 21 فی صد رہی ہے اور یہ بہت ہی خوف ناک اعدادوشمار ہیں۔اسپتال تیزی سے مریضوں سے بھر رہے ہیں اوراس وقت نظام صحت دباؤ کا شکار ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں حالیہ دنوں میں روزانہ کروناوائرس کے چار ہزار سے زیادہ کیس ریکارڈ کیے جارہے ہیں۔ملک کے قومی کمان اور آپریشن مرکز(این سی او سی) نے اتوارکوکروناوائرس کے تشخیص شدہ کیسوں کی 8 فی صد سے زیادہ شرح والے شہروں اور اضلاع میں پانچ اپریل سے شادیوں کی تقریبات پر پابندی عاید کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔