.

حکومتِ پاکستان کا ٹی ایل پی پرانسداد دہشت گردی قانون کے تحت پابندی عاید کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی وفاقی حکومت نے مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پرانسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی عاید کرنے کافیصلہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بدھ کو اسلام آباد میں ایک نیوزکانفرنس میں ٹی ایل پی پرپابندی عاید کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔اس جماعت کے کارکنان گذشتہ تین روز سے ملک بھر کے بڑے شہروں میں اپنے لیڈر سعد حسین رضوی کی گرفتاری کے خلاف تشدد آمیز احتجاج کررہے تھے۔

وزیر داخلہ کے بہ قول ان کی ان کی پُرتشدد کارروائیوں کے پیش نظر اس تنظیم کوخلاف قانون قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ ٹی ایل پی کے کارکنان کے تشدد سے دو پولیس اہلکار ہلاک اور 340 زخمی ہوچکے ہیں۔تاہم آزاد ذرائع مرنے والے پولیس اہلکاروں اور زخمیوں کی تعداد اس سے زیادہ بتا رہے ہیں۔صرف پنجاب پولیس کے پانچ سو کے لگ بھگ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

شیخ رشید احمد نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’اس مذہبی سیاسی جماعت پر انسداد دہشت گرد ایکٹ (آٹا) مجریہ 1997ء کے ضابطہ 11 (ب) کے تحت پابندی عاید کی جارہی ہے۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے اس تنظیم پر پابندی عاید کرنے کی سفارش کی ہے اوراس مقصد کے لیے ایک سمری وفاقی کابینہ کو بھیجی جارہی ہے۔

ٹی ایل پی کے کا ڈنڈا بردار کارکنوں نے سوموار کی سہ پہر سے لاہور ، راول پنڈی ، فیصل آباد اور کراچی سمیت مختلف بڑے شہروں میں اہم شاہراہیں رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کررکھی تھیں اور وہ وہاں سے عام شہریوں اور ایمبولینس گاڑیوں کو بھی گذرنے کی اجازت نہیں دے رہے تھیں۔

ٹی ایل پی کے لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے مسلح کارکنوں نے لاہور اور دوسرے شہروں میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے آنے والے پولیس اہلکاروں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور بیسیوں کو ڈنڈوں سے مار مار کر ادھ موا کردیا تھا اورانھیں اغوا کرکے نامعلوم مقامات پر لے گئے تھے۔

وفاقی حکومت نے ٹی ایل پی کے کارکنوں کی ان تشدد آمیز کارروائیوں پر دوروز تک کوئی سخت کارروائی نہیں کی تھی جس کی وجہ سے اس کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بننا پڑا ہے۔

بدھ کی شب جب شیخ رشید نے اس تنظیم پر پابندی عاید کرنے کا اعلان کیا تو پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئے ہیں اور ان کے اہلکاروں نے ملک کے بڑے شہروں میں بین الاضلاعی اور بین الصوبائی شاہراہیں کھلوانا شروع کردیں۔

وزیرداخلہ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ٹی ایل پی کے ورکروں نے سڑکیں بند کرکے ایمبولینس گاڑیوں کو اسپتالوں تک پہنچنے نہیں دیا اور کووِڈ-19 کے مریضوں کے لیے آکسیجن کے سیلنڈر لے کر جانے والی گاڑیوں کو بھی روکا ہے۔انھوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور شاہراہیں بند کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔