.

تحریکِ لبیک پاکستان پرانسداد دہشت گردی قانون کے تحت پابندی عاید،نوٹی فیکیشن جاری 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی وفاقی حکومت نے مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر باضابطہ طور پرانسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی عاید کردی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بدھ کو اسلام آباد میں ایک نیوزکانفرنس میں ٹی ایل پی پرپابندی عاید کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد اس ضمن میں ایک سمری وفاقی کابینہ کو بھیجی گئی تھی۔کابینہ کی منظوری کے بعد وزارت داخلہ نے جمعرات کو ٹی ایل پی پابندی کا باقاعدہ نوٹی فیکیشن جاری کردیا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے:’’وفاقی کابینہ کے پاس اس بات کے یقین کے لیے معقول جواز موجود ہے کہ تحریک لبیک پاکستان دہشت گردی میں ملوّث ہے۔اس نے ملک کے امن وسلامتی کو تہ وبالا کیا ہے،لوگوں کو ہراساں کیا،ملک میں طوائف الملوکی پیدا کرنے کی کوشش کی ،قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور شہریوں پر حملے کیے جس سے وہ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔شہریوں کی آزادانہ نقل وحرکت میں رکاوٹیں ڈالی ہیں۔منافرت انگیزی کو فروغ دیا،سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا اور گاڑیوں کو نذرآتش کیا، اسپتالوں کو جان بچانے والی ضروری ادویہ کے پہنچنے میں رکاوٹیں ڈالیں ، حکومت کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی اور عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا۔‘‘

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’وفاقی حکومت انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء کی شق 11ب (1) کے تحت حاصل اختیار کی رو سے تحریک لبیک پاکستان کو غیر قانونی تنظیموں کی فہرست میں شامل کررہی ہے۔‘‘

قبل ازیں وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’’حکومت تحریک لبیک کو کالعدم قراردینے کے لیے اقدامات کرے گی۔اس مقصد کے لیے الگ سے ایک سمری وفاقی کابینہ کو بھیجی جائے گی۔اس کی منظوری کے بعد آیندہ دو سے تین روز میں سپریم کورٹ میں اس جماعت کی تحلیل کے لیے ریفرینس دائر کیا جائے گا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’حکومت نے مذاکرات کے ذریعے اس معاملے کو طے کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ٹی ایل پی کے ارادے بہت خطرناک تھے۔وہ کسی بھی قیمت اپنے 20 اپریل کے ایجنڈے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھی۔‘‘

انھوں نے امن وامان کی بحالی کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں کے کردار کو سراہا۔انھوں نے بتایا کہ گذشتہ تین روز میں تشدد کے واقعات میں 580 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں اور کم سے کم تیس گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔

ٹی ایل پی کے کارکنان نے گذشتہ تین روزکے دوران میں ملک بھر کے بڑے شہروں میں اپنے لیڈر سعد حسین رضوی کی گرفتاری کے خلاف پُرتشدد احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔وزیر داخلہ کے بہ قول ان کی پُرتشدد کارروائیوں کے پیش نظر اس تنظیم کوخلاف قانون قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔انھوں نے بتایا کہ ٹی ایل پی کے کارکنان کے تشدد سے دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

ٹی ایل پی کے ڈنڈا بردار کارکنوں نے سوموار کی سہ پہر سے لاہور ، راول پنڈی ، فیصل آباد اور کراچی سمیت مختلف بڑے شہروں میں اہم شاہراہیں رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردی تھیں اور وہ وہاں سے عام شہریوں اور ایمبولینس گاڑیوں کو بھی گذرنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔

ٹی ایل پی کے لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے مسلح کارکنوں نے لاہور اور دوسرے شہروں میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے آنے والے پولیس اہلکاروں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا تھا،بیسیوں کو ڈنڈوں سے مار مار کر ادھ موا کردیا تھا اورانھیں اغوا کرکے نامعلوم مقامات پر لے گئے تھے۔

وفاقی حکومت نے ٹی ایل پی کے کارکنوں کی ان تشدد آمیز کارروائیوں پر دوروز تک کوئی سخت کارروائی نہیں کی تھی جس کی وجہ سے اس کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بننا پڑا ہے۔

بدھ کی شب جب شیخ رشید نے اس تنظیم پر پابندی عاید کرنے کا اعلان کیا تو پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئے تھے اور ان کے اہلکاروں نے ملک کے بڑے شہروں میں بین الاضلاعی اور بین الصوبائی شاہراہیں کھلوانا شروع کردیں اور جمعرات کی شام تک کم وبیش تمام شاہراہیں کھلوائی جاچکی ہیں۔