.

پاکستانی وزیرخارجہ کا ایرانی صدرحسن روحانی سے دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بدھ کو تہران میں ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی سے ملاقات کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ پرتبادلہ خیال کیا ہے۔

وزیرخارجہ نے صدرِ پاکستان ڈاکٹرعارف علوی اور وزیراعظم عمران خان کا صدر روحانی اور برادر ایرانی قوم کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی پرمبنی پیغام پہنچایا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت بھارت کے زیرانتظام ریاست مقبوضہ جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے کشمیری مسلمانوں کے نصب العین کی مسلسل حمایت پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر حسن روحانی کی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

وزیر خارجہ نے ایرانی صدر سے پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مختلف شعبوں میں مزید فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں مشترک تاریخ، ثقافت، مذہب اور زبان پر مبنی خوشگوار قریبی اور مضبوط دوستانہ تعلقات استوار ہیں۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ ہم وزیراعظم عمران خان کے وژن کی روشنی میں ایران کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مستحکم بنانے کے علاوہ باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

صدر حسن روحانی نے شاہ محمود قریشی سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، دوطرفہ روابط کو مربوط بنانے اور سرحدی انتظام سمیت دو طرفہ تعلقات کو مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستان کے وزیرخارجہ ایران کے تین روزہ سرکاری دورے پرمنگل کو تہران پہنچے تھے۔انھوں نے ایرانی ہم منصب جواد ظریف اور پارلیمان کے اسپیکر سے بھی الگ الگ ملاقات کی ہے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے بلوچستان میں ایک اور سرحدی گذرگاہ کھولنے اور چھے مارکیٹوں کے قیام سے متعلق مفاہمت کی دو یادداشتوں پر دست خط بھی کیے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے ان سمجھوتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان سے سرحد کے دونوں جانب بسنے والے بلوچ عوام کی اقتصادی ترقی میں مدد ملے گی اور پاکستانیوں اور ایرانیوں کے درمیان باہمی روابط کو فروغ ملے گا۔