.

پاکستان میں کووِڈ-19 سے ریکارڈ 201اموات، حکام کا سخت لاک ڈاؤن پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں کووِڈ-19 کی وَبا پھیلنے کے بعد سے بدھ کو سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں اور اس مہلک وائرس کا شکار 201 مریض موت کے مُنھ میں چلے گئے ہیں۔حکومت صورت حال بگڑنے کے بعد اب بڑے شہروں میں سخت لاک ڈاؤن پر غور کررہی ہے۔

قومی کمان آپریشن مرکز (این سی اوسی) کے مطابق ملک میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 17530 ہوگئی ہے۔اس سے پہلے 23 اپریل کو کووِڈ-19 کا شکار 157 افراد وفات پاگئے تھے۔

این سی اوسی نے منگل کے روز کرونا وائرس کے 5292 نئے کیسوں کی اطلاع دی تھی۔اب پاکستان میں کووِڈ-19 کے تشخیص شدہ کیسوں کی تعداد 810231 ہوچکی ہے۔ملک میں کووِڈ-19 کا ٹیسٹ کرانے والوں میں مثبت کیسوں کی شرح 10۰8 فی صد ہے اور گذشتہ سال یہ مہلک وبا پھیلنے کے بعد سے اموات کی شرح 2۰2 فی صد ہوچکی ہے۔

پاکستان میں اب تک صرف 20 لاکھ افراد کو ویکسین لگائی جاچکی ہے۔حکومت بیشتر ملکی آبادی کے لیے ویکسین کی بروقت دستیابی یقینی نہیں بنا سکی ہے اور وہ اس مقصد کے لیے ابھی تک دوسری حکومتوں سے بات چیت کررہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر اب طبی نگہداشت کی سہولتیں ناکافی ہوتی جارہی ہیں اور بیشتر اسپتالوں میں بستر مریضوں سے بھر چکے ہیں۔وینٹی لیٹرز کی تعداد بہت کم ہے اور آکسیجن بھی وافر مقدار میں دستیاب نہیں ہے۔

این سی او سی کے مطابق ملک بھر میں منگل تک کووِڈ-19 کے 6286 مریض 631 اسپتالوں میں زیرعلاج تھے۔بڑے شہروں میں 70 فی صد سے زیادہ وینٹی لیٹروں اور آکسیجن والے بستروں پر مریض زیرعلاج تھے۔

گذشتہ سوموار کو حکومت کی ہدایت پرپاکستان آرمی کے جوانوں کو ملک کے 16 بڑے شہروں میں تعینات کردیا گیا تھا۔وہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات کے نفاذ کے ضمن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کررہے ہیں۔وہ ماسک نہ پہننے والے شہریوں کی پکڑ دھکڑ کررہے ہیں اور غیرضروری کاروباروں کو بھی 6 بجے کے بعد زبردستی بند کرارہے ہیں۔

اسی ہفتے کرونا وائرس کے مثبت شرح والے شہروں میں حکام نے سخت اقدامات کیے ہیں۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے خبردار کیا ہے کہ اگر لوگوں نے سماجی فاصلہ اختیار کرنے ، ماسک پہننے اور دوسری احتیاطی تدابیر کی عدم پاسداری جاری رکھی تو دوسرے شہروں میں بھی سخت اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

ادھر صوبہ سندھ کی حکومت نے جمعہ 30 اپریل سے بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ پر پابندی عاید کرنے کا اعلان کیا ہے اور یہ پابندی عیدالفطر کی چھٹیوں کے بعد 17 مئی تک برقرار رہے گی۔