.

سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا مشکل میں ساتھ دیا: عمران خان کا جدہ میں خطاب

’’روضہ رسولﷺ اور بیت اللہ کے اندر جا کر میری بیٹری چارج ہو گئی‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان کا دیرینہ دوست ہے جس نے ہمیشہ مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا۔ مملکت کے حالیہ دورہ کے دوران سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہو گئے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے مکہ المکرمہ میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دوست ممالک مدد نہ کرتے تو پاکستان بحران کا شکار ہو جاتا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مشکل وقت میں ساتھ دیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اخبارات میں مایوسی کی خبریں آتی ہیں لیکن میں اپنی قوم کو خوشخبری سنانا چاہتا ہوں کہ اب وہ پاکستان بنے گا جو ستر سال پہلے بننا چاہیے تھا۔ ہم قائداعظمؒ کے پاکستان کے ٹریک پر واپس آ گئے ہیں۔ مافیا سے آزادی کی جنگ میں تھوڑا وقت لگے گا، تاہم بہت جلد آپ کے سامنے نیا پاکستان ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی بھی چاہتے ہیں کہ ان کا ملک عظیم بنے۔ یہ پاکستان کی ڈیفائنگ موومنٹ ہے۔ ہماری حکومت تبدیلی کے لیے لڑرہی ہے، اسے اب کوئی نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں شعور آنے کی بڑی وجہ سوشل میڈیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بڑی تیزی سے معلومات شیئر ہوتی ہیں۔ تحریک انصاف یوتھ کی وجہ سے اقتدار میں آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ میں آج بڑا خوش ہوں۔ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اس کے علاوہ روضہ رسولﷺ اور خانہ کعبہ کے اندر جانے کا موقع ملا۔ بیٹری ری چارج ہو گئی ہے۔ اب نئے پاکستان کی سوچ کو آگے لے کر چلیں گے۔ ایک طرف مافیا جو پرانے نظام کو بچانے میں لگا ہے جبکہ دوسری طرف عوام، جو تبدیلی چاہتی ہے۔

معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کنسٹریکشن انڈسٹری ترقی کر رہی ہے۔ بینکوں کو چھوٹے قرضے دینے کی عادت نہیں تھی لیکن اب انھیں قرضوں کے حوالے سے ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ اب کرایہ دار کرایہ دینے کے بجائے اپنا گھر بنا سکیں گے۔ مشکل وقت سے نکل آئے، اب آگے خوشحالی ہوگی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بہتر ہو رہی ہے۔ پوری دنیا میں کرونا کی وجہ سے معیشت متاثر ہوئی۔ افسوس بھارت میں کرونا سے بہت تباہی ہوئی۔ تاہم اللہ کا شکر ہے ہم نے کرونا کے دوران پاکستانیوں اور معیشت کو بچایا۔