.

پاکستان،سعودی عرب کا مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ کاعزم: مشترکہ اعلامیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور سعودی عرب نے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور نجی اور سرکاری شعبوں میں تعاون اور روابط کو بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے سعودی عرب کے تین روزہ سرکاری دورہ کی تفصیل سے متعلق جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں کے لیڈروں کی بات چیت میں دوطرفہ مفاد اور تعلقات کے فروغ کے لیے کاوشیں بروئے کار لانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔عمران خان نے سعودی ولی عہد ، نائب وزیراعظم اور وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر یہ دورہ کیا ہے اور ان سے جدہ میں ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے علاوہ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے اسلامی دنیا کو درپیش مسائل کے حل نیز علاقائی اور عالمی امن کے قیام کے لیے قائدانہ کردار اور کاوشوں کو سراہا ہے۔سعودی ولی عہد نے وزیراعظم کو ان کے ویژن کے مطابق پاکستان کو ایک ’’جدید ترقی یافتہ اور فلاحی ریاست‘‘ بنانے کے لیے حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

طرفین نے سعودی عرب کے ویژن 2030ء اور پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کی روشنی میں اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے سرمایہ کاری کے دستیاب مواقع کی تلاش سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔انھوں نے توانائی ، سائنس ، ٹیکنالوجی ،زراعت اور ثقافت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون میں اضافے سے متعلق امور پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ طرفین نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ فوجی اور سکیورٹی کے شعبے میں موجودہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

سعودی ولی عہد اور پاکستانی وزیراعظم نے اسلامی دنیا سے متعلق امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔انھوں نے انتہاپسندی اور تشدد کے خاتمے،فرقہ واریت کے استرداد اور بین الاقوامی امن اور سلامتی کے حصول کے لیے اسلامی ممالک کے درمیان مربوط کوششوں کی ضرورت پر زوردیا ہے۔انھوں نے دہشت گردی کی تمام شکلوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کاوششیں جاری رکھنے پر زوردیا ہے۔انھوں نے اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی کا کسی مذہب ، قومیت ، تہذیب یا نسلی گروپ سے تعلق نہیں ہوسکتا ہے اور نہ اس کو ان میں سے کسی سے جوڑا جانا چاہیے۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب نے فلسطینی عوام کے تمام جائزحقوق کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے، بالخصوص ان کے حق خودارادیت اور 1967ء کی جنگ سے قبل کی سرحدوں میں مشرقی القدس دارالحکومت کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے عرب امن اقدام اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازع فلسطین کے حل کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

دونوں ملکوں نے شام اور لیبیا میں جاری بحرانوں کے سیاسی حل کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔طرفین نے یمن میں جاری تنازع کے خلیج امن اقدام ،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور یمنی فریقوں کے درمیان جامع قومی مکالمے کی بنیاد پر سیاسی حل کے لیے کوششوں کی حمایت پر زوردیا ہے۔

انھوں نے حوثی ملیشیا سمیت ملیشیاؤں اور دہشت گردوں کے سعودی عرب کی اہم تنصیبات اور شہری ڈھانچے پربیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملوں کی مذمت کی ہے۔انھوں نے تیل کی برآمدات کی سلامتی کو درپیش خطرات پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے یمنی بحران کے حل کے لیے سعودی عرب کے کردار کو سراہا ہے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے عمران خان سے افغانستان کی صورت حال کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔انھوں نے افغان امن عمل میں پاکستان کے سہولت کار کی حیثیت سے کردار کو سراہا ہے۔طرفین نے مسئلہ افغان کے ایک مشمولہ ، وسیع البنیاد اور جامع سیاسی حل کی ضرورت پر زوردیا اور کہا کہ اس صورت ہی میں آگے بڑھا جاسکتا ہے۔انھوں نے افغان فریقوں پر زوردیا کہ وہ ملک میں سیاسی حل کے لیے تاریخی موقع کا ادراک کریں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔دونوں لیڈروں نے افغان امن عمل سے متعلق باہمی مشاورت جاری رکھنے سے اتفاق کیا ہے۔

سعودی ولی عہد نے حال ہی میں پاکستان اور بھارت کے فوجی حکام کے درمیان حدِ متارکہ جنگ (ایل اوسی) پر طے پانے والی مفاہمت کا خیرمقدم کیا ہے۔طرفین نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جموں وکشمیر کے تنازع سمیت تمام تصفیہ طلب امور کو طے کرنے کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زوردیا ہے تاکہ خطے میں امن واستحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔

اعلامیہ میں کیا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب کو جی 20 کی سربراہی اور اس کے اجلاسوں کی کامیابی سے میزبانی پر مبارک باد پیش کی ہے۔انھوں نے دنیا کو درپیش ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کے قائدانہ کردار کو سراہا ہے اور بالخصوص ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ’’سعودی سبز اور مشرق اوسط سبز اقدامات‘‘ کی تعریف کی ہے۔ان کے نتیجے میں خطے اور اس کے مکینوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔سعودی ولی عہد نے بھیی وزیراعظم کے ’’صاف اور سبز پاکستان‘‘ اقدام اور ’’10 ارب درخت سونامی‘‘ اقدام کی کامیابی کو سراہا ہے۔

اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور انھیں متنوع بنانے کے لیے درج ذیل سمجھوتے طے پائے ہیں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دست خط کیے گئے ہیں:

1۔سعودی ، پاکستان اعلیٰ رابطہ کونسل کے قیام کے لیے سمجھوتا۔

2۔ منشیات ،نشہ آورادویہ اور کیمیکل کی غیرقانونی حمل ونقل (ٹریفک) کے خاتمے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دست خط ۔

3۔ سعودی محکمہ مالیات (ایس ایف ڈی) اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان توانائی ، پن بجلی کی پیداوار ، انفرااسٹرکچر ، ٹرانسپورٹ ، مواصلات اور آبی وسائل کی ترقی کے منصوبوں کےلیے مالی وسائل مہیا کرنے کی غرض سے فریم ورک مفاہمت کی یادداشت۔

4۔ مختلف جرائم سے نمٹنے کے لیے دوطرفہ تعاون کا سمجھوتا۔ اور

5۔سزایافتہ قیدیوں کی منتقلی سے متعلق سمجھوتا۔