.

عمران خان: مسجداقصیٰ میں اسرائیلی فورسز کے فلسطینیوں پرحملوں کی شدید الفاظ میں مذمت

وزیراعظم کی مکہ مکرمہ میں رابطہ عالمِ اسلامی کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات میں اسلام فوبیا سے نمٹنے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم عمران خان نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فورسز کے فلسطینیوں پرحملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ اس سنگین صورت حال کے حل کے لیے فوری اقدامات کرے۔ وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی پختہ حمایت کا اعادہ کیا ہے اور ان کے جائز حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

وہ اتوار کو مکہ مکرمہ میں رابطہ عالمِ اسلامی کے سیکریٹری جنرل محمدالعیسیٰ سے ملاقات میں گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے دنیا کے مختلف حصوں میں رابطہ عالمِ اسلامی کی انسانی امداد کے ضمن میں کاوشوں کو سراہا۔انھوں نے کہا کہ اس تنظیم نے اسلام کا حقیقی تشخص اجاگرکرنے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

وزیراعظم نے اسلام فوبیا سے نمٹنے کی ضرورت پر زوردیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ پوری مسلم اُمہ اس کو ایک متفقہ مسئلہ کے طور پر دنیا کے سامنے اجاگر کرے گی۔

انھوں نے اس بات پر زوردیا کہ اظہاررائے کی آزادی کا حق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ داریوں کا تقاضا کرتا ہے۔اس کے تحت نسل پرستی پر مبنی نظریات کی تشہیر نہیں کی جانی چاہیے۔مذہبی علامات اور شخصیات کی بے توقیری اور تضحیک نہیں ہونی چاہیے۔

انھوں نے اسلام فوبیا سے متعلق تفہیم اور ابلاغ میں موجود خلیج کو پاٹنے کی ضرورت پر زوردیا اور سیکریٹری جنرل سے کہا کہ مغربی معاشروں کے تمام طبقات سے مل جل کر اس ضمن میں کام کیا جائے۔بالخصوص ماہرین تعلیم ، سول سوسائٹی کی تنظیموں ،دانشوروں اور سیاست دانوں سے روابط کو فروغ دیا جائے۔

عمران خان نے اس بات پر زوردیا کہ عالمی برادری عدم برداشت اور مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر تشدد کے خلاف ایک مشترکہ مؤقف اپنائے اور پُرامن بقائے باہمی کے لیے مل جل کر کام کرے۔

شیخ محمد العیسیٰ نے وزیراعظم عمران خان کی مسلم اُمہ کے نصب العینوں کے لیے کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ انھیں مسلم اُمہ میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔انھوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قریبی تعلقات کو سراہا اور عمران خان کو ان کے کامیاب دورے پر مبارک باد پیش کی ہے۔