.

پاکستان میں جمعرات کوعیدالفطر منانے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں شوال المکرم کا چاند نظرآگیا ہے اور جمعرات کو ملک بھر میں مذہبی جوش وخروش اور عقیدت واحترام سے عیدالفطر منائی جائے گی۔

پاکستان کی مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین سیّد عبدالخبیرآزاد نے بدھ کی شب ساڑھے گیارہ بجے عیدالفطر کا چاند نظر آنے کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ملک بھر سے شوال کا چاندنظرآنے کی شہادتیں موصول ہوئی ہیں اور ان کا جائزہ لینے کے بعد عیدالفطر منانے کا اعلان کیا جارہاہے۔

اسلام آباد میں مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کا اجلاس چار گھنٹے تک جاری رہا۔اس میں وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی اور محکمہ موسمیات کے نمایندے بھی شریک تھے۔زونل اور ضلعی رؤیت ہلال کمیٹیوں کے اپنے اپنے علاقائی ہیڈکوارٹرز میں اجلاس منعقد ہوئے ہیں۔

مولانا عبدالخبیرآزادنے نیوزکانفرنس میں بتایا کہ ملک کے بہت سے حصوں میں مطلع ابرآلود تھا لیکن چمن ، قلعہ سیف اللہ ، پسنی ، پشاور ، میرپورخاص اور دوسرے شہروں سے چاند نظرآنے کی شہادتیں موصول ہوئی ہیں۔اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جمعرات 13 مئی کو یکم شوال ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر میں رمضان المبارک کے ایک ہی دن میں آغاز کی طرح اب عید الفطر بھی ایک دن منائی جارہی ہے۔قبل ازیں صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی اور بلوچستان کے علاقوں دشت اور تربت سے عید کا چاند نظرآنے کی شہادتیں موصول ہوئی تھیں اور رؤیت ہلال کمیٹی نے ان کا جائزہ لیا تھا۔

تاہم مرکزی کمیٹی کے اعلان سے قبل ہی پشاور کی تاریخی مسجد قاسم علی خان کے خطیب مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے جمعرات کو عیدالفطر منانے کا اعلان کردیا تھا۔انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ ان کی کمیٹی کو صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سے چاند دیکھنے کی 175 سے زیادہ شہادتیں موصول ہوئی ہیں۔ان کا جائزہ لے کرتصدیق کی گئی ہے اور ان کے بارے میں مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کو مطلع کیا گیا ہے۔

کووِڈ سے بچاؤ کے لیے رہ نما ہدایات

عید الفطر کے اعلان سے ایک روز قبل ی پاکستان کے قومی کمان اورآپریشن مرکز (این سی او سی) نے نماز کے اجتماعات کے لیے نئی رہ نما ہدایات جاری کی تھیں اور تمام شہریوں کو ان کی پاسداری کی ہدایت کی تھی۔:

1۔عیدالفطر کی نماز کے لیے اجتماعات کھلی جگہوں پر منعقد کیے جائیں اور اس دوران میں کووِڈ-19 سے بچاؤ کے لیے تمام پروٹوکولز کی پاسداری کی جائے۔

2۔اگرنمازِعید کی مساجد ہی میں ادائی ناگزیر ہوتو ان میں تازہ ہوا کے دخول وخروج کا مناسب انتظام ہونا چاہیے۔

3۔ کسی جگہ اگرعید کے بڑے اجتماعات منعقد ہوتے ہوں تو زیادہ شرکاء کے پیش نظر تعداد کم سے کم رکھنے کے لیے ایک ہی جگہ عید کی دودو یاتین تین نمازیں بھی پڑھائی جاسکتی ہیں۔

4۔ عید کا خطبہ بہت مختصر رکھنے کی کوشش کی جائے۔

5۔ مریضوں ، ضعیف العمرافراد اور 15 سال سے کم عمر بچّوں کی عیدکی نماز میں شرکت کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

6۔ عیدگاہوں یا مساجد میں چہرے پر ماسک پہننے اور 6 فٹ کا فاصلہ برقرار رکھنےکی شرط کی پاسداری کی جائے۔

7۔عید کےاجتماعات میں داخل ہونے اور باہرنکلنے کے مختلف راستے بنائے جائیں تاکہ داخلی اور خارجی راستوں پرنمازیوں کا رش نہ ہو۔

8۔ عیدگاہوں اور مساجد پر تھرمل سکریننگ اور ہاتھوں کے لیے جراثیم کش محلول (سینی ٹائزر) کا اہتمام کیا جائے۔

9۔ تمام نمازی اپنا اپنا مصلیٰ لے کر آئیں اور عید کی نماز کے لیے گھروں سے وضو کرکے آئیں۔

10۔ نمازِعید کے بعد باہم گھلنے ملنے ،مصافحہ اور معانقہ کرنے سے گریز کیا جائے۔

11۔ عیدگاہوں اور اجتماعات کی جگہوں پر کووِڈ-19 کے پروٹوکولز کو اجاگرکرنے کے لیے بینرز اور پینافلیکس کو نمایاں جگہ پرآویزاں کیا جائے۔ہجوم کے انتظام کے لیے پارکنگ کی جگہوں کو مختص کیا جائے۔