.

سلامتی کونسل اسرائیلی جارحیت کے خاتمے میں کردارادا کرے: شاہ محمودقریشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زوردیا ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے جارحانہ تباہ کن تشدد کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرے۔ان کا کہنا ہے کہ ’’اب بہت ہوچکا،کہنے کا وقت آگیا ہے۔‘‘

وہ جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں تقریر کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ’’اسرائیل نے فلسطینی عوام کے خلاف بلاتعطل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں سیکڑوں اموات ہوچکی ہیں۔خوراک ، پانی ،حفظان صحت اور صحت کی خدمات تک رسائی محدود ہوچکی ہے۔غزہ میں پاور اسٹیشن کے لیے ایندھن ختم ہونے کو ہے۔‘‘

شاہ محمودقریشی نے کہا کہ ’’اس وقت جب ہم یہاں گفتگو کررہے ہیں تو فلسطینی عوام کو بلا استثنا قتل کیا جارہا ہے۔غزہ میں ہرگھر میں موت کا سماں ہے۔محاصرہ زدہ فلسطینی علاقہ عملاً اندھیروں میں ڈوب چکا ہے۔وہاں صرف اور صرف اسرائیلی دھماکوں ہی سے روشنی ہوتی ہے۔‘‘

انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’یہ فلسطین ہے جہاں اسرائیل کے فضائی حملوں میں پوری پوری عمارتوں کو نیست ونابود کردیا گیا ہے،بے گناہ فلسطینیوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا ہے اور انھیں دہشت زدہ کیا گیا ہے۔حتیٰ کہ میڈیا کو بھی خاموش کردیا گیا ہے۔‘‘

وہ شہرمیں واقع کثیرمنزلہ ٹاور کی گذشتہ ہفتے کے روز اسرائیل کے فضائی حملے میں تباہی کا حوالہ دے رہے تھے۔اس ٹاور میں الجزیرہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک ، امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) اور دوسرے میڈیا اداروں کے دفاتر قائم تھے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’’اب بہت ہوچکا کہنے کا وقت آگیا۔فلسطینی عوام کی آواز کو خاموش کرایا جاسکتا ہے اور نہ کرایا جاسکے گا،ہم اسلامی دنیا کے نمایندے یہاں ان کے لیے اور ان کی جانب سے آوازاٹھانے کو موجود ہیں۔‘‘

وزیرخارجہ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بین الاقوامی امن وسلامتی کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے اور اب تک اسرائیل کی تشدد آمیز کارروائیوں کو رکوانے کا مطالبہ تک نہیں کرسکی ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک قابض فوج اور مقبوضہ عوام کے درمیان جنگ ہے۔یہ غیرقانونی قبضے اور حق خودارادیت کی جائز جدوجہد کے درمیان جنگ ہے۔انھوں نے کہا کہ غزہ اور دوسرے مقبوضہ علاقوں کی تباہ حال آبادی کو ہرممکن انسانی امداد مہیا کی جانا چاہیے۔فلسطین میں میڈیکل ٹیمیں ،ادویہ، خوراک اور دوسرا امدادی سامان بھیجا جائے۔

انھوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کے تحت بین الاقوامی فورس بھیجنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس سے اتفاق نہیں کرتی تو پھر ہم خیال ممالک سویلین مبصرین کو فلسطینی علاقوں میں جنگی کارروائیوں کے خاتمے اور انسانی امدادکی تقسیم کی نگرانی کے لیے بھیجیں۔

شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی فلسطینیوں کو جبرواستبداد کے ذریعے ان کے آبائی مکانوں یا علاقوں سے بے دخل کرنے کی کارروائیوں کی مذمت کرے۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم پر ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔اس ضمن میں جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کونسل بھی اپنا کردار ادا کرے۔