.

سندھ کے ضلع گھوٹکی میں دو مسافر ٹرینوں میں تصادم، 51 افراد جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں واقع شہر ڈہرکی کے قریب 2 مسافر ٹرینوں میں تصادم کے نتیجے میں 51 افراد جاں بحق اور کم سے کم 100 زخمی ہو گئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ سوموار کو علی الصباح گھوٹکی کے قریب ریتی اور ڈہرکی ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان پیش آیاہے۔وہاں کراچی سے سرگودھا جانے والی ملت ایکسپریس راولپنڈی سے کراچی آنے والی سرسید ایکسپریس سے ٹکرا گئی ہے۔اس کے بعد ملت ایکسپریس کی بوگیاں پٹڑی سے اتر کر الٹ گئی ہیں۔

گھوٹکی کے ایس ایس پی عمر طفیل نے رات گئے بتایا کہ حادثے میں تباہ ہونے والی بوگیوں سے مزید 11 نعشیں نکال لی گئی ہیں اور اب مرنے والے مسافروں کی تعداد 51 ہوگئی ہے۔انھوں نے بتایا کہ ان میں 34 جاں بحق افراد کی شناخت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ان میں مردوخواتین دو نوں شامل ہیں۔ زیادہ تر جاں بحق افراد ملت ایکسپریس میں سوار تھے جبکہ سرسید ایکسپریس کے مسافر زخمی ہوئے ہیں۔

ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ حادثے میں 7 بوگیاں متاثر ہوئی ہیں۔ان میں 3 بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 6 سے 8 بوگیاں ایک دوسرے میں پھنسی ہوئی ہیں، ان بوگیوں میں متعدد مسافر تاحال پھنسے ہوئے ہیں۔انھیں نکالنے کے لیے بوگیوں کو کاٹا جا رہا ہے جب کہ مقامی ریسکیو رضاکاروں کے علاوہ رینجرز اور پاک فوج کے اہلکار بھی امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ ابتدا میں امدادی کارروائیاں سست روی کا شکار رہی ہیں۔دن کے وقت بھاری مشینری بھی حادثے کی جگہ پر پہنچادی گئی تھی۔ معمولی زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں اپنی مدد آپ کے تحت منتقل کیا جارہا ہے جب کہ شدید زخمیوں کو سکھر اور رحیم یار خان کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

سندھ پنجاب ریلوے ٹریفک معطل

حادثے کے نتیجے میں سندھ اور پنجاب کے درمیان ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہوگئی ہے۔ ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پہلے زخمیوں کو نکال کر بوگیوں کو ہٹایا جائے گا، اس کے بعد ہی ٹرینوں کی بحالی کا عمل شروع کیا جا سکے گا۔

وزیر اعظم کا اظہار افسوس

وزیر اعظم عمران خان نے ٹرین حادثے پر گہرے افسوس اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گھوٹکی میں ریلوے کے المناک حادثے پر سکتے میں ہوں۔ ریلوے کے وزیر کو موقع پر پہنچ کر زخمیوں کی طبی امداد کی نگرانی کی ہدایت کر دی ہے۔ اس کے علاوہ ریلوے کے حفاظتی نظام میں خامیوں کی جامع تحقیقات کا بھی حکم دے دیا ہے۔