.

پاکستانی وزیرخارجہ کی روسی ہم منصب سے دونوں ملکوں میں تعلقات پر بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ ڈاٹ نیٹ

پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سوموار کے روز روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ انھوں نے باہمی دلچسپی کے دوطرفہ،علاقائی اور عالمی امورپر تبادلہ خیال کیا ہے۔

وزیرخارجہ نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ روس کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اوّلین ترجیح حاصل ہے۔وزیرخارجہ لاروف کا حالیہ دورۂ پاکستان اس امر کا غماز ہے کہ دونوں ملک مختلف شعبوں میں کثیرجہت شراکت داری کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں گذشتہ دوعشروں کے دوران میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور ہمیں اسی انداز میں دوطرفہ تعاون کو جاری رکھنا چاہیے۔‘‘دونوں وزرائے خارجہ نے افغان مسئلہ کے بات چیت کے ذریعے پائیدارحل کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے وزیرخارجہ لاروف سے پاکستان کی اس درخواست کا اعادہ کیا کہ وہ روس سے سپوتنک پنجم ویکسین کی پچاس لاکھ خوراکیں خرید کرنا چاہتا ہے۔انھوں نےاس امید کا اظہار کیا ہے کہ کووِڈ-19 کی وبا کے خاتمے اور صورت حال معمول پرآنے کے بعد پاکستان اورروس کے درمیان سیاسی مشاورت کا میکانزم بحال ہوگا اور مختلف شعبوں میں ورکنگ گروپوں کے اجلاس دوبارہ منعقد ہوں گے۔