.

جوہر ٹاؤن کے پوش رہائشی علاقے میں زور دار دھماکا، 3 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پنجاب کے شہر لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں بدھ کی صبح ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں پولیس اہلکار سمیت 3 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہو گئے۔ دھماکا ’’اللہ ھو چوک‘‘ کے قریب ہوا۔ دھماکے کے نتیجے میں قریبی گھروں کو نقصان پہنچا اور متعدد گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔

سکیورٹی اور امدادی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔ فوج، رینجرز اور کاؤنٹرر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے اہلکار دھماکے کی جگہ پر پہنچ گئے ہیں۔ فوری طور پر دھماکے کی نوعیت کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا۔ تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھا کرنا شروع کر دیے ہیں۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لیتے ہوئے دھماکے کے مقام سے صحافیوں سمیت دیگر افراد کو پیچھے ہٹا دیا ہے۔

سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے میڈیا کے استفسار پر بتایا کہ ’’فوری طور پر یہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ گیس لیکج کا دھماکہ تھا یا کچھ اور۔‘‘ ان کے بقول ’’تحقیقاتی ٹیم اپنے کام میں مصروف ہے اور دھماکے کی نوعیت کے بارے میں ماہرین ہی کچھ بتا سکتے ہیں۔‘‘

جوہر ٹاؤن قدرے ایک نسبتاً نئی ہاؤسنگ کالونی ہے جس کا شمار لاہور کے پوش علاقوں میں ہوتا ہے اور یہاں کاروباری سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں۔وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے جوہر ٹاؤن دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے دھماکے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیرِ داخلہ کے مطابق وفاقی ادارے تحقیقات میں پنجاب حکومت کی معاونت کر رہے ہیں اور دھماکے کی نوعیت کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جوہر ٹاؤن میں دھماکے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) سے رپورٹ طلب کرلی اور واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو زخمی افراد کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنے اور جناح اور دیگر ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی ہدایت کی۔