.

میٹ ہینکاک کے استعفی کے بعد پاکستانی نژاد سیاست دان برطانوی وزیر صحت مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکاک کی جانب سے مستعفی ہو جانے کے بعد پاکستانی نژاد سیاست دان ساجد جاوید کو وزیر صحت مقرر کیا گیا ہے۔

میٹ ہینکاک کے مستعفی ہونے نے بعد وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنی کابینہ کے رکن ساجد جاوید کو نیا وزیر صحت نامزد کیا ہے۔

اس پیش رفت کے بعد ساجد جاوید نے ایک ٹویٹ میں اس ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے لکھا: ’اس نازک وقت میں مجھے صحت اور سوشل کیئر کے سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے لیے کہا گیا ہے۔ میں اس (کرونا) وبا کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے اور کابینہ شامل ہو کر ایک بار پھر اپنے ملک کی خدمت کرنے کا منتظر ہوں۔‘


ساجد جاوید کون ہیں؟

برطانیہ کی سرکاری ویب سائیٹ کے مطابق سال 2019 میں بطور وزیر داخلہ کام کرنے والے ساجد جاوید کو بورس جانسن کی کابینہ میں اب وزیر صحت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

ساجد جاوید
ساجد جاوید

2014 میں وزیرِ ثقافت منتخب ہونے والے ساجد جاوید کنزرویٹو جماعت میں اہم رہنما جاتے ہیں۔ 2010 کے عام انتخابات میں وہ بروموسگرو سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔

میٹ ہینکوک استعفے کا پس منظر

میٹ ہینکوک نے ہفتے کو اس انکشاف کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا کہ انہوں نے قریبی ساتھی کے ساتھ معاشقے کے دوران حکومت کی اپنی کرونا وائرس سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزی کی۔

اس وبا کے خلاف برطانیہ کے فرنٹ مین، خاص طور پر ویکسین لگانے کی مہم میں پیش پیش ہینکوک نے وزیر اعظم بورس جانسن کو لکھے ایک خط میں اپنی معذرت کا اعادہ کرتے ہوئے عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

انہوں نے لکھا کہ ’ہم ان لوگوں کے مقروض ہیں جنہوں نے اس وبا کے خلاف بہت قربانیاں دی ہیں جب ہم نے پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں نیچا دکھایا ہے۔‘

اس سے قبل وزیر اعظم بورس جانسن کی جانب سے اس معاملہ کو ’ختم‘ قرار دینے کے بعد سے برطانیہ میں وزیر صحت کے معاشقے کی تحقیقات کے لیے دباؤ بڑھ رہا تھا۔ وزیر اعظم کے بیان کو اپنے سیکرٹری کو بچانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

بیالیس سالہ میٹ ہینکاک کے جینا کولاڈ اینجیلو نامی خاتون سے افیئر کی خبریں گرم ہیں اور برطانوی اخبار ’دا سن‘ نے وزیر صحت کی ان کے ساتھ گلے لگتے ہوئے تصاویر شائع کیں جسے اخبار نے ’سٹیمی کلنچ‘ یعنی گرم جوش معانقہ قرار دیا۔

سکیورٹی کیمرے سے یہ تصاویر چھ مئی کو لی گئیں تھیں۔ تاہم ذرائع نے اخبار کو بتایا کہ یہ جوڑا کرونا کی وبا کے دوران بھی دیگر کئی مواقعے پر گلے لگتے دیکھا گیا ہے۔

ہینکاک نے جمعے کو کہا کہ وہ سماجی فاصلے کی ہدایات کی خلاف ورزی پر ’معذرت خواہ ہیں‘ مگر ایک بیان میں واضح کیا کہ ان کا استعفیٰ دینے کا ارادہ نہیں۔

وزیر صحت نے اپنے خاندان کے لیے پرائیوسی کی اپیل کی اور کہا کہ ان کا دھیان ’ملک کو وبا سے نکالنے‘ پر مرکوز ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ تصویر وائٹ ہال میں ان کے محکمے کے اندر لی گئی تھی اور اس وقت کام کی جگہوں پر دو میٹر کا سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کا قانون نافذ تھا۔