.

پاکستان میں اطالوی سفارت خانے سے ایک ہزار شینگن ویزہ اسٹیکرز چوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں واقع اطالوی سفارت خانے سے ایک ہزار شینگن ویزوں کی چوری کے بعد ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر امیگریشن سروسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے امیگریشن ڈیسک سے وابستہ حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اٹلی کے سفارت خانے سے چوری ہونے والے ویزہ اسٹیکرز کو استعمال کرتے ہوئے لوگ یورپ جانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اسی لیے اب یورپ جانے والے تمام مسافروں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔

اتنے بڑے واقعے کے بعد اطالوی سفارت خانے نے داخلی تحقیقات کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔ سفارت خانے میں نہ صرف اطالوی اہلکار تعینات ہیں بلکہ وہاں پاکستانی شہری بھی ملازمت کرتے ہیں۔ عمومی طور پر سفارت خانوں میں مقامی شہریوں کو ملازمتیں انتہائی چھان بین کے بعد ہی دی جاتی ہیں۔

پاکستانی حکام نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن ہے کچھ افراد ان ویزوں کا استعمال کرتے ہوئے یورپ پہنچ بھی گئے ہوں۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

اٹلی کے سفارت خانے سے یہ ویزے رواں ماہ چوری کیے گئے ہیں۔ پاکستانی سکیورٹی حکام حیران ہیں کہ ایک انتہائی سکیورٹی والے قلعہ نما غیرملکی سفارت خانے سے ویزے کیسے چوری ہو سکتے ہیں؟

پاکستانی ایجنسیوں نے بھی اس حوالے سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق ممکنہ طور پر ویزے چوری کرنے کے لیے اسمگلروں نے سفارت خانے کے عملے کو بھاری رشوت دی ہے۔

پاکستان میں بیرون ملک جانے کے لیے لوگ انسانوں کے اسمگلروں سے رابطہ کرتے ہیں۔ یہ کاروبار پاکستان بھر میں اپنے عروج پر ہے۔ چھبیس یورپی ممالک کے شینگن ویزے کے لیے لوگ بیس لاکھ سے بھی زائد پاکستانی روپے ادا کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

ایف آئی اے کے مطابق پاکستان میں محدود پیمانے پر ویزہ اسٹیکرز چوری کرنے کی کارروائیاں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں، لیکن یہ اب تک کی سب سے بڑی چوری ہے۔