.

’’پاکستان پڑوسی افغانستان میں پائیدار قیام امن کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا‘‘

افغانستان میں عوام کی حقیقی نمایندہ حکومت کا خیرمقدم کیا جائے گا:اعلیٰ فوجی قیادت کی پارلیمان کے ارکان کو بریفنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت نے جمعرات کے روز پارلیمان کےارکان کو قومی سلامتی سے متعلق امور کے بارے میں اعلیٰ سطح پر بریفنگ دی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان اپنے مغربی ہمسایہ ملک افغانستان میں مستقل قیام امن کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے رہے گا اور وہ افغان عوام کی حقیقی نمایندہ حکومت کا خیرمقدم کرے گا۔

پارلیمان کی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو بند کمرے کے اجلاس میں افغانستان میں ہونے والی تازہ پیش رفت اور سلامتی سے متعلق دوسرے حساس موضوعات کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے۔اس بریفنگ میں کمیٹی کے 29 ارکان شریک تھے۔ان کے علاوہ پارلیمان کے 16 ارکان کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔

پاکستان کے مرکزی سراغرساں ادارے انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے اجلاس کے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی۔اس میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ ،تمام پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہان اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شریک تھے لیکن اس اہم بریفنگ میں وزیراعظم عمران خان شریک نہیں تھے۔

کمیٹی کے سربراہ اور قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کے بہ قول وزیراعظم عمران خان نے حزبِ اختلاف کے بائیکاٹ کے خطرے کے پیش نظر اس اہم بریفنگ میں شرکت نہیں کی ہے اور وہ عین اس وقت اسلام آباد ہی میں کسانوں کے ایک کنونشن میں شریک تھے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی شرکت کی صورت میں حزب اختلاف کے قائدین اور ارکان بریفنگ کا بائیکاٹ کرسکتے تھے۔

آئی ایس آئی کے سربراہ نے پارلیمانی قیادت اور ارکان کو اہم خارجہ امور، قومی سلامتی ، داخلی چیلنجز اور علاقائی سطح پر ہونے والی تازہ پیش رفت بالخصوص تنازع کشمیر اور افغانستان کی موجودہ صورت حال سے آگاہ کیا۔انھوں نے بتایا کہ پاکستان نے افغان امن عمل میں بہت مثبت اور مخلصانہ کردار ادا کیا ہے اور وہ یہ کردار ادا کرتا رہے گا۔

شرکاء کو بتایا گیا کہ ’’پاکستان کی کوششوں کے نتیجے مختلف افغان دھڑوں اور متحارب گروپوں کے درمیان بالمشافہ بات چیت کی راہ ہموار ہوئی تھی۔اس کے علاوہ امریکا اور طالبان کے درمیان بامقصد مکالمے کا عمل شروع ہوا تھا۔افغانستان میں امن وسلامتی کے قیام کے نتیجے میں جنوبی ایشیا میں بھی استحکام آئے گا۔‘‘

اس بریفنگ کے بعد وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’افغانستان میں اس وقت جاری تنازع کے دوران میں پاکستان کی سرزمین کو استعمال نہیں کیا جارہا ہے اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو بھی پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا۔‘‘

قانون سازوں کو بتایا گیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان باڑ لگانے کا 90 فی صد کام مکمل ہوچکا ہے اور کسٹمز اور بارڈر کنٹرول کا ایک مؤثرنظام وضع کیا جارہا ہے۔

بیان کے مطابق سیاسی لیڈروں نے بریفنگ پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور افغانستان میں امن، ترقی اور خوش حالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکیا ہے۔وزارت اطلاعات کے مطابق شرکاء نے سوال وجواب کے سیشن کے دوران میں اپنی بعض تجاویز پیش کی ہیں اور سکیورٹی پالیسی میں ان کی تجاویز پرغورکیا جائے گا۔