.

پاکستان کا بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘پرلاہور میں کاربم دھماکے میں ملوّث ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کےمشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے بھارت پر جون میں لاہور میں ہونے والے کاربم دھماکے میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔

انھوں نے اتوار کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں اب تک دہشت گردی کے اس واقعہ کی تحقیقات کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارتی انٹیلی جنس کے آلہ کاروں نے اس کی منصوبہ بندی کی تھی۔اس بم دھماکے کا ماسٹرمائنڈ ایک بھارتی شہری تھا۔وہ لاہورہی میں مقیم تھا اور بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے لیے کام کررہا تھا لیکن انھوں نے اس ماسٹر مائنڈ کا نام نہیں بتایا۔

قومی سلامتی کے مشیر نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’دہشت گردوں سے برآمد ہونے والے الیکٹرانک آلات کے فورینزک تجزیے سے ہم نے دہشت گردی کے اس حملے کے مرکزی سرغنہ اور آلہ کاروں کو شناخت کرلیا ہے۔اس کا ماسٹرمائنڈ بھارتی شہری ہے اور خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے تعلق رکھتا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ہم بین الاقوامی سطح پر بھارت کی دہشت گردی کے حملوں کی پشتیبانی کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔

23 جون کو لاہور کے علاقے جوہرٹاؤن میں یہ بم دھماکا کالعدم لشکرطیبہ کے امیرحافظ سعید کی اقامت گاہ کے باہر ہوا تھا۔وہ خود اس حملے میں محفوظ رہے تھے لیکن اس میں تین افراد ہلاک اور 24 زخمی ہوگئے تھے۔

حافظ سعید کو امریکا کے محکمہ انصاف نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے اور ان کے سرکی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کررکھی ہے۔بھارت نے ان پر2008ء میں ممبئی میں حملوں میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔ممبئی میں لگژری تاج محل ہوٹل سمیت مختلف مقامات پربیک وقت حملوں میں 170 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

صوبہ پنجاب کے انسپکٹرجنرل پولیس انعام غنی نے بتایا ہے کہ لاہوربم دھماکے میں ملوّث تمام افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان میں پاکستان میں مقیم ایک افغان شہری بھی شامل ہے۔اسی نے بارود سے لدی کار کو بم دھماکے کی جگہ پر کھڑا کیا تھا۔