.

سعودی عرب اور پاکستان کا خطے کی سکیورٹی کے لئے مل کر کام کرتے رہنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی علاقائی مسائل پر واضح سمت ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ خطے کے لیے سکیورٹی اور استحکام اہم ہے۔

منگل کو اسلام آباد میں اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سعودی مہمان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں یمن، افغانستان، کشمیر اور فلسطین پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

وزارت خارجہ میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے ہیں۔ دو طرفہ سیاسی، اقتصادی، سرمایہ کاری کے مواقعوں اور دفاعی تعاون کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق سعودی وفد کی قیادت سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کی۔ وزارت خارجہ کے مطابق ’ان مذاکرات میں دوطرفہ اور کثیر الجہتی شعبوں میں تعاون کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی اور عالمی امور زیر بحث آئے۔

اس موقع پر پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان یکساں مذہبی، ثقافتی اور تاریخی اقدار پر استوار گہرے برادرانہ مراسم ہیں۔ دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا۔‘

انہوں نے کہا کہ’پاکستانیوں کے دلوں میں سعودی عرب اور خادمین حرمین شریفین کے لیے والہانہ عقیدت پائی جاتی ہے، اس لیے ہم سعودی عرب کی خوشحالی اور تعمیر و ترقی کو اپنی ترقی سے تعبیر کرتے ہیں۔‘شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی حمایت جاری رکھنے کے لیے پر عزم ہے۔‘

وزیر خارجہ نے خطے میں قیام امن بالخصوص خلیجی ممالک کے مابین تنازعات کے حل کیلئے سعودی عرب کے متحرک کردار کو سراہا۔ انھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کی جانب سے اٹھائے گئے 5 اگست 2019 کے یک طرفہ اور غیر آئینی اقدامات کے بعد سعودی عرب کی علاقائی و عالمی فورمز پر پاکستان کے موقف کی حمایت قابلِ ستائش ہے۔

’’او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر میں سعودی عرب کے مثبت کردار پر سعودی قیادت کے شکر گزار ہیں۔ جنوبی ایشیا سمیت دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی توقعات سعودی قیادت سے وابستہ کیے ہوئے ہیں۔‘‘