.

نور مقدم کے قاتل کا ’’اقبال جرم‘‘، مقدمے کے ملزمان جیل بھیج دیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے ’اقبال جرم‘ کر لیا ہے۔

ادھر اسلام آباد کی سیشن کورٹ کے جوڈیشل مجسٹریٹ جج شعیب اختر نے نور مقدم قتل کیس کے ملزمان کو 14 دنوں کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

منگل کو اسلام آباد کی مقامی عدالت میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران ملزمان کے وکیل نے استدعا کی ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جائے جس پر مقتولہ کے وکیل شاہ خاور نے کہا کہ ہمیں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

اس کے بعد عدالت نے ملزمان کے وکیل کی درخواست پر ملزمان کو جیل بھیجنے اور 10اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے حکم دیا ہے۔ نور مقدم قتل کیس کے ملزمان ذاکر جعفر، ان کی اہلیہ اور دو ملازمین کو منگل کے روز عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

پاکستان کے معتبر میڈیا ہاؤس ڈان نیوز نے پولیس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے ’’کہ ظاہر جعفر نے ستائس سالہ نور مقدم کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔‘‘

مقامی میڈٰیا میں ایسی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ اس کیس کی تفتیش کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج بھی برآمد کر لی گئی ہے، جس سے اس کیس کی تحقیقات میں مدد مل سکتی ہیں۔

درایں اثنا پاکستان میں واقع امریکی سفارتخانے کے اسٹاف نے ملزم سے رابطہ کیا ہے۔ ظاہر جعفر پاکستان اور امریکا کی دوہری شہریت رکھتے ہیں۔

امریکی سفارتخانے کے ترجمان ہیدر ایٹن نے میڈیا سے گفتگو میں اس کیس پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پرائیوسی تحفظات کی بنا پر وہ اس بارے میں کوئی بیان نہیں دے سکتیں۔‘‘ انہوں نے اس بارے میں بھی کوئی بیان نہیں دیا کہ آیا امریکی سفارتخانہ اس کیس کی پیروی کرے گا؟

اس کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں پولیس نے ملزم کا موبائل فون بھی ضبط کر لیا ہے، جس کے معائنے سے کئی انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ وہ مزید حقائق جاننے کی خاطر مقتولہ کے گھر والوں اور قریبی رشتہ داروں سے بھی پوچھ گچھ کرے گی۔

خیال رہے کہ 20 جولائی کو اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کے علاقے ایف سیون فور میں پاکستان کے سابق سفیر شوکت مقدم کی 28 سالہ بیٹی نور مقدم کو تیز دھار آلے سے گلا کاٹ کر قتل کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے اگلے روز پولیس نے ملزم ظاہر جعفر کو گرفتار کر لیا تھا۔

نور مقدم کے قتل پر سماجی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

بعد ازاں مقتولہ کے والد سابق سفیر شوکت علی مقدم نے واضح کیا تھا کہ وہ اس کیس میں کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ملزم کو سزا دلوانا ہی ان کا واحد مقصد ہے۔

24 جولائی کو اسلام آباد پولیس نے ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر، والدہ عصمت آدم جی اور دو ملازمین افتخار اور جمیل کو شواہد چھپانے اور قاتل کی جرم میں اعانت پر گرفتار کیا تھا۔

ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر کنسٹرکشن کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور ایک بڑی کمپنی کے مالک ہیں۔ ملزم بھی کمپنی میں اہم عہدے پر فائز تھا۔