.

کم عمری میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی سر کرنے والا پاکستانی کوہ پیما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے کم عمر ترین کوہ پیما شہروز کاشف نے 19 سال کی عمر میں دنیا کی دوسری اونچی چوٹی کے ٹو سر کر لی ہے۔
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق شہروز کے ٹو سر کرنے والے کم عمر ترین کوہ پیما ہیں اور یہ ایک عالمی ریکارڈ ہے۔

الپائن کلب آف پاکستان کے سیکرٹری کرار حیدری نے بتایا کہ شہروز کاشف نے منگل 27 جولائی کی صبح آٹھ بج کر 10 منٹ پر کے ٹو سر کرنے کا معرکہ انجام دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں کے ٹو بیس کیمپ سے یہ معرکہ سر کیے جانے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

اس سے پہلے یہ اعزاز معروف کوہ پیما علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ کے پاس تھا جنہوں نے 20 سال کی عمر میں کے ٹو سر کی تھی۔

آٹھ ہزار 611 میٹر بلند دنیا کی دوسری اونچی چوٹی کے ٹو سر کرنے سے قبل شہروز کاشف مئی 2021 میں آٹھ ہزار 848 میٹر بلند دنیا کی سب سے بلند قامت چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کر چکے ہیں اور انہیں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے کم عمر ترین پاکستانی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

اس سے قبل پاکستانی کوہ پیما ثمینہ بیگ نے 23 سال کی عمر میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کی تھی۔

اس سے قبل 17 سال میں عمر میں شہروز کاشف نے آٹھ ہزار 47 میٹر بلند براڈ پیک سر کی تھی جس پر انہیں ’براڈ بوائے‘ کے خطاب سے نوازا گیا تھا۔

شہروز نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے بعد میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ ساجد سدپارہ کے ساتھ مل کر دنیا میں آٹھ ہزار میٹر سے بلند تمام 14 چوٹیاں سر کرنا چاہتے ہیں۔

شہروز کا تعلق لاہور سے ہے۔ انہوں نے11 سال کی عمر میں پہاڑ چڑھنا شروع کیے تھے۔ تب انہوں نے چار ہزار میٹر بلند چوٹیاں سر کیں جن میں مکڑا پیک اور موسی کا مصلہ شامل ہیں۔