.

اسلام آباد میں بادل پھٹنے کے باعث مختلف علاقے زیر آب، دو افراد جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بدھ کی علی الصباح موسلا دھار بارش اور بادل پھٹنے کے واقعے کے بعد سیلابی صورتِ حال دیکھنے میں آئی ہے جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بدھ کی صبح ہونے والی موسلا دھار بارش کے بعد بعض علاقوں میں اچانک سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتِ حال پیدا ہوئی۔ تاہم حکام نے کہا ہے کہ 95 فی صد متاثرہ علاقوں کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔

محکمۂ موسمیات نے اسلام آباد میں کلاؤڈ برسٹ (بادل کا پھٹنا) کے خدشے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں مون سون کی بارش ہوئی ہے۔

اسلام آباد میں سیلابی ریلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ سیکٹر ای 11 تھا جہاں دو افراد کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔ سیلابی ریلے کی شدت اس قدر تیز تھی کہ اس کی راستے میں آنے والی متعدد گاڑیاں پانی میں بہتی رہیں۔

ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات کے مطابق ٹیمیں نالوں اور سڑکوں کو صاف کر رہی ہیں۔ امید ہے ہم ایک گھنٹے میں سب کلیئر کر لیں گے۔ سب سے درخواست ہے کہ وہ تعاون کریں۔ اسلام آباد میں بارش کے بعد سی ڈی اے کا عملہ بھی متحرک ہو گیا۔

چیئرمین سی ڈی اے عامر احمد علی کے مطابق عملہ سڑکوں سے پانی نکالنے میں مصروف ہے۔ نالوں اور سڑکوں کی صفائی کی جا رہی ہے جبکہ مرکزی شاہراؤں سے بارش کا پانی نکال دیا گیا۔ عامر احمد علی کا کہنا تھا کہ سیکٹر جی7 اور8 میں پانی کی نکاسی کی جا رہی ہے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ راول ڈیم کے اسپل ویز کھولے جا رہے ہیں جب کہ دریائے کورنگ اور دریائے سواں کے قریب آباد مکینوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آج دریا کے کناروں سے دور رہیں۔

حکام کے مطابق دریا میں نہانے پر دفعہ 144 نافذ ہے جب کہ ریسکیو اور انتظامیہ امدادی کاموں میں مصروف ہے جب کہ مساجد میں اعلانات بھی کرائے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق راولپنڈی اسلام آباد میں موسلادھار بارش کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح بڑھ گئی جبکہ ای11 میں پانی جمع ہوگیا۔ فوجی دستے امدادی کاموں میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے پہنچ گئے۔

فوج کے محکمہ تعلقات عامہ ’’آئی ایس پی آر‘‘کے مطابق سیلاب کی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی حالات نافذ کر دی گئی۔

کلاؤڈ برسٹ ہوتا کیا ہے؟

کلاؤڈ برسٹ یا بادلوں کے پھٹنے کی اصلاح اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب ایک گھنٹے کے دوران ہونے والی بارش کی شرح 100 ملی میٹر یا اس سے زیادہ ریکارڈ کی جائے۔

سائنسی اعتبار سے کلاؤڈ برسٹ تب ہوتا ہے جب فضا میں موجود گرم ہوا ٹھنڈی ہوا سے گزرتی ہے تو اس صورت میں آبی بخارات تبدیل ہو کر ٹھوس بن جاتے ہیں۔ یعنی گہرے بادل ایک ٹھوس غبارے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس عمل میں شدت کی صورت میں ٹھوس بننے والے آبی بخارات پھٹ جاتے ہیں۔